قائد اعظم محمد علی جناح اور متروکہ سندھ

قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا تقسیم ہند، تبادلہ آبادی اور  زمین پر موقف

درج ذیل قائد اعظم کے بیانات و فیصلہ سے واضح ہوتا ہے کہ  تبادلہ آبادی و زمین ارادی نہیں مگر منطقی انجام تھا۔ 

۱۴ اگست کو حاصل ہونے والا پاکستان وہ نہیں جسکا مطالبہ تھا یا ارادہ۔ یہ پاکستان کٹا پٹا تھا اور اسکے نتائج بھی ارادی کم واقعات پہ منحصر تھے۔  اگر پنجاب و بنگال کی تقسیم نا ہوتی تو بڑے پیمانے پہ قتل عام و نقل مکانی بھی نا ہوتی جو ہوئی۔ 

قائد اعظم نے شروع میں بڑے پیمانے پر زبردستی تبادلہ آبادی کی حمایت نہیں کی کیوں کہ  مسلم لیگ اور کانگریس دونوں کا سرکاری موقف یہ تھا کہ اقلیتیں اپنے گھروں میں رہیں اور ان کے حقوق محفوظ رہیں۔

 فرقہ وارانہ فسادات جو سنہ ۱۹۴۶ میں ہوئے   (خاص طور پر بہار میں مسلمانوں کا قتل عام) کے بعد ان کا موقف تبدیل ہوا۔

آئی بی ڈیپارٹمنٹ سے شایع شٗدہ اور آج بھی یوکے کی نیشل آرکائیو پہ موجود ہے قائد اعظم کا یہ بیان کہ  آل انڈیا مسلم لیگ کا مطالبہ پنجاب و بنگال کی تقسیم نہیں تھا اگر تقسیم ہوگی تو قتل عام ہوگا اور نتیجہ میں تبادلہ آبادی و زمین بھی ہوگا 

JinnaH pop exchange

 

5 JinnaH pop exchange 2

https://www.nationalarchives.gov.uk/wp-content/uploads/2014/03/fo371-635331.jpg

سب سے مشہور بیان ۱۱ ستمبر۱۹۴۶

(بمبئی سے جاری کردہ بیان)

“ہندوستان کے مختلف حصوں میں ہونے والے خوفناک قتل عام کے پیش نظر میری رائے ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکام کو فوری طور پر تبادلہ آبادی کے سوال پر غور کرنا چاہیے تاکہ اس بات کی وحشیانہ تکرار سے بچا جا سکے جو ان علاقوں میں ہوئی جہاں چھوٹی اقلیتوں کو اکثریت نے ذبح کر دیا۔”

دیگر بیانات:

– نومبر 1946: بہار سانحہ کے بعد “تبادلہ آبادی پر سنجیدگی سے غور کیا جائے

– اپریل 1947: “جلد یا بدیر تبادلہ آبادی ہونا پڑے گا۔ دونوں ریاستیں جب ضروری اور ممکن ہو اسے انجام دیں گی۔”

زمین اور جائیداد پر موقف

قائد اعظم **پورے پنجاب اور بنگال** کو پاکستان میں شامل رکھنا چاہتے تھے۔ پنجاب اور بنگال کی تقسیم کو وہ  کیڑا کھایا ہوا پاکستان قرار دیتے تھے۔

ریڈکلف ایوارڈ آنے کے بعد انہوں نے اسے ناانصاف، ناقابل فہم اور گمراہ کن قرار دیا، لیکن پہلے سے کیے گئے وعدے کی وجہ سے قبول کیا۔

تقسیم کے بعد متروکہ زمین  کا بڑا مسئلہ پیدا ہوا۔

قائد اعظم نے ابتدا میں اقلیتوں کو اپنے گھروں میں رہنے کی تلقین کی، لیکن فسادات کے بعد رضاکارانہ تبادلہ آبادی کی تجویز دی۔ زمین کے معاملے میں وہ مسلم اکثریتی علاقوں کو مکمل طور پر پاکستان میں شامل رکھنا چاہتے تھے اور اقلیتوں کی جائیداد کے تحفظ کی ضمانت دیتے رہے۔ تقسیم کے بعد جو تباہی ہوئی، وہ ان کے اصل تصور سے مختلف تھی۔

حوالہ: 

. نومبر 1946 کا بیان

اصل الفاظ: 

“The exchange of populations will have to be considered seriously as far as possible, especially after this Bihar tragedy.”

اردو ترجمہ: 

“تبادلہ آبادی پر جہاں تک ممکن ہو سنجیدگی سے غور کیا جائے گا، خاص طور پر بہار کے اس سانحے کے بعد۔”

یہ بیان 14 نومبر 1946 کو دہلی میں دیا گیا (کچھ اخبارات میں 15 نومبر کو شائع ہوا)۔

Jinnah Papers (Quaid-i-Azam Papers Project)، Volume 14: League-Congress Deadlock 

(1 August 1946 – 19 February 1947)
ڈان اخبار نے اسے ۱۵ نومبرک ۱۹۴۶ و شائع کیا۔

اس کے علاوہ 25 نومبر 1946 کو کراچی میں پریس کانفرنس میں بھی قائد اعظم نے اسی نوعیت کا بیان دیا تھا کہ حکام کو 

فوری طور پر تبادلہ آبادی کے سوال پر غور کرنا چاہیے۔

اپریل 1947 کا بیان

اصل الفاظ (مکمل سیاق و سباق کے ساتھ)

“It is obvious that if the Hindu minorities in Pakistan wish to emigrate and go to their homelands of Hindustan, they will be at liberty to do so and, vice versa, those Muslims who wish to emigrate from Hindustan can do so and go to Pakistan; and sooner or later an exchange of population will have to take place, and the Constituent Assemblies of Pakistan and Hindustan can take up the matter and subsequently the respective Governments in Pakistan and Hindustan can effectively carry out the exchange of population wherever it may be necessary and feasible.”

اردو ترجمہ

“جلد یا بدیر تبادلہ آبادی ہونا پڑے گا، اور پاکستان و ہندوستان کی دستور ساز اسمبلیاں اس معاملے پر غور کر سکتی ہیں، بعد ازاں دونوں حکومتیں جہاں ضروری اور ممکن ہو تبادلہ آبادی کو مؤثر طریقے سے انجام دے سکتی ہیں۔”

حوالہ:

یہ بیان 30 اپریل 1947 کو جاری کیا گیا۔

Jinnah Papers، Series 1, Volume 1: Prelude to Pakistan (20 February – 2 June 1947)، صفحہ 681-682 پر موجود ہے۔

Mehrunnisa Ali (مرتبہ)، Jinnah on World Affairs: Select Documents, 1908-1948 (Pakistan Study Centre, University of Karachi, 2007)، صفحہ 372 پر بھی درج ہے۔

یہ دونوں بیانات قائد اعظم پیپرز پراجیکٹ (قومی دارالحکومت پاکستان کے قومی آرکائیوز) کی سرکاری اشاعتوں میں محفوظ 

ہیں، اس لیے انہیں مستند سمجھا جاتا ہے۔

سندھ لینڈ ایلینیشن بل 

(Sindh Land Alienation Bill, 1947)

سندھ سمبلی نے بددیانتی کی بٗنیاد پہ یہ بل قیام پاکستان سے چند دن قبل  منظور کر لیا تھا، لیکن برصغیر کی تقسیم اور اقتدار کی منتقلی کی وجہ سے یہ بل قانونی شکل نہ پاسکا وائسرائے کی تاخیر: اسمبلی سے پاس ہونے کے بعد، یہ بل حتمی شاہی منظوری کے لیے ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو بھیجا گیا۔ چونکہ تقسیم ہند کا وقت قریب تھا، اس لیے ماؤنٹ بیٹن نے اس پر دستخط کرنے میں تاخیر کی اور حتمی فیصلہ آنے والی نئی حکومت پر چھوڑ دیا۔

  • قائد اعظم کا ویٹو: پاکستان کے قیام کے بعد، یہ بل بطور گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کے سامنے پیش کیا گیا۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان اور ان کی کابینہ کے مشورے پر، قائد اعظم محمد علی جناح نے اس بل پر دستخط کرنے سے انکار (ویٹو) کر دیا۔
  • منسوخی کی وجہ: نوآباد ملک کی حکومت نے مقامی سندھیوں کو زمینیں واپس کرنے کے بجائے، ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والے لاکھوں مسلم مہاجرین کی آباد کاری کو ترجیح دی۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ ہندوؤں کی چھوڑی
  •  ہوئی ان زمینوں کو ‘متروکہ املاک’   کے پول میں شامل کیا جائے تاکہ   سیٹل کیا جا سکے۔

افسوس کہ سندھ  کا ہائی کورٹ قائد کے اس فیصلہ کو بدلنے میں مصروف ہے۔

 

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *