سندھ و یوپی میں دو قومی نظریہ کا آغاز  

   سندھ و یوپی میں دو قومی نظریہ کا آغاز  

اردوہندی رسم الخط جھگڑا

انگریز نے ۱۸۳۷  میں اردو کو سرکاری زبان بنایا۔ مگر ۱۸۵۷ کے غدر سے انگریز مسلمان سے متنفر ہوا اور صرف دس سال میں ہندو نے اس صورتحال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے انگریز کی قُربت حاصل کی 

۱۸۶۷ میں بنارس میں اردو (فارسی-عربی رسم الخط) کو سرکاری زبان بنانے پہ ہندو اشرافیہ نے اردو کو “مسلمانوں کی زبان” کہا اور مطالبہ کیا کہ اسے ختم کر کے ہندی (دیوناگری رسم الخط) کو سرکاری زبان بنایا جائے۔ بہرحال چونکہ مسلمان اقلیت میں تھے اور ہندوؤں کا دباؤ شدید تھا انگریز نے دیواناگری و عربی رسم الخط دونوں کا رائج کرنے کا فیصلہ کیا۔  مسلمانوں نے اسے اپنی تہذیب اور مذہب پر حملہ سمجھا۔ سر سید احمد خان نے کہا کہ “ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں“

سندھی رسم الخط جھگڑا

سندھ میں انگریزوں کے  ۱۸۴۳ کے قبضے کے بعد سرکاری دفاتر میں زبان اوررسم الخط کا مسئلہ پیدا ہوا۔ سندھ میں روایتی طور پر سندھی عربی رسم الخط رائج تھا۔

لیکن ہندو بنیا طبقہ، جو زیادہ تر تجارت اور دفتری امور میں شامل تھا، دیو ناگری رسم الخط کو سرکاری طور پر رائج کرنا چاہتا تھا۔ جرمن ماہر اللغات “رچرڈ برٹن نے ۱۸۵۳ میں عربی رسم الخط کے حق میں فیصلہ سنایا۔مگر اس فیصلہ سے سندھ میں ہندو مسلم تعلقات میں دراڑ پیدا ہوئی کیونکہ ہندو طبقہ اپنے دیوناگری رسم الخط کو تسلیم کروانا چاہتا تھا۔ گو کہ تاریخ کی کتابوں مسلمانوں کی جانب سے قیادت کرنے والوں کے نام نہیں ملتے مگر یہ طے ہے کہ انہوں نے اپنے موقف کی بھرپور ترجمانی کی۔ اسکے باوجود کہ  کچھ انگریز افسر چاہتے تھے کہ اردو کو رائج کیا جائے کیونکہ شمالی ہند کے افسر اور فوجی پہلے ہی اردو استعمال کرتے تھے۔ مگر سندھ کے مسلمان علما اور اشرافیہ نے کہا کہ سندھی ہی مقامی عوام کی زبان ہے، اس لیے دفتری زبان بھی یہی ہونی چاہیے۔

گو کہ سندھ و یوپی میں ہونے والی اس لسانی بحث و ٹکراؤ کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نا تھا مگر  ان واقعات  نے  یہ بتا دیا کہ اگر یوپی کا مسلمان اپنا مذہبی تشخص چاہتا تھا تو وہی سندھ کے

مسلمان کی خواہش تھی۔ ورنہ رسم الخط اتنی اہمیت نہیں رکھتا۔ آج یورپ کا مسلمان یورپی زبانوں میں اسلامی تعلیم بھی حاصل کررہا ہے اور اسکا اسلام بھی خطرے میں نہیں۔ اگر سندھی یا اردو دیواناگری میں لکھی جاتی تو کوئی قیامت نا آجاتی مگر ایک دوسرے سے بہت دور رہنے والے ان دونوں گروہوں نے عربی یا فارسی رسم الخط  کو منوا کر دم لیا۔ دوسری اہم بات یہ کہ سندھی بولنے والے مسلمان نے اپنی اکثریت کے بل بوتے پہ نا صرف ہندو سندھی کو مات دی بلکہ بمبئی کا حصّہ ہونے کے باوجود اس واقعہ کی بُنیاد پہ سندھ ڈویژن کے علیہدہ تشخص کو بھی منوا لیا۔ یہ تشخص ہی آگے چل کر سندھ کو بمبئی سے الگ کرانے کا سبب بنا اور اس معاملہ میں یوپی کے مسلمان کا کردار کبھی صوبہ سندھ کے قیام کے حوالہ سے مزید وسعت سے تحریر کریں گے۔تیسری اور آخری بات اس ضمن میں یہ کہ یوپی کا مسلمان تھا تو اقلیت میں مگر سارے انڈیا کے سب سے بڑے و اہم ترین صوبہ کا اہم رُکن تھا۔ ۱۵ فیصد کی آبادی رکھنے کے باوجود اپنی قائدآنہ صلاحیتوں سے اس نے ہندو تسلط کو تسلیم کرنے سے نا صرف یہ کہ انکار کیا بلکہ اپنا برابر کا وزن منوانے میں کامیاب ہوا۔ یوپی کے مسلمان کا یہ مزاج آئندہ برصغیر کی سیاست پہ جس طرح اثر انداز ہوا اس سے ہم واقف ہیں۔

اس مضمون کو انشااللہ ہم بھٹو دور کے لسانی بل سے چوڑیں گے مگر آج کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔

ندیم رضوی 

متروکہ سندھ تحریک و مُہاجر قومی تحریک        

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp