لیاقت علی خان کا شجرہ نسب نوشیروان عادل، ساسانی بادشاہ فارس، تک پہنچتا ہے۔ ایسے شجرے عموماً روایت کے دائرے میں آتے ہیں اور تنقیدی جانچ سے بالاتر ہوتے ہیں۔
لیاقت علی خان کے آباؤ اجداد نے سب سے پہلے لاہور میں سکونت اختیار کی اور جب آگرہ مغل سلطنت کا دارالحکومت بنا تو مشرق کی طرف بڑھ گئے۔ ایک شاخ آگرہ میں ہی مقیم رہی جبکہ دوسری مظفر نگر (موجودہ اتر پردیش) میں آباد ہوگئی۔ انیسویں صدی کے آغاز پر مظفر نگر کی شاخ کے چند افراد پنجاب کے کرنال منتقل ہوئے۔ کرنال شاہجہان کے دور سے کچھ فارسی امراء کا مسکن رہا تھا۔ انہی امراء نے لیاقت علی خان کے پردادا محمدی خان کو اپنے حلقے میں خوش آمدید کہا۔
ان کے خاندان کا تعلق انگریزوں کے ساتھ تقریباً 1804 کے قریب قائم ہوا، جب قبیلے کے سربراہ محمدی خان نے مرہٹہ جنگ کے دوران لارڈ لیک کی مدد کی۔ 1804 سے قبل سہارنپور، کرنال، پانی پت، سونی پت اور ہریانہ کے ملحقہ علاقے مرہٹہ راجہ آپا کھانڈے راؤ کے زیرِ اثر تھے، جنہوں نے 1794 میں آئرش شخص جارج تھامس کی مدد سے یہ علاقے سکھوں سے چھین لیے تھے۔
نواب احمد علی خان نے نواب مہر علی خان آف راجپور (ضلع سہارنپور) کی بیٹی سے شادی کی۔ احمد علی خان کی زمین اور خطابات پہلے ان کے بڑے بیٹے نواب عظمت علی خان کو ملے اور پھر ان کے چھوٹے بھائی نواب رستم علی خان، یعنی لیاقت علی خان کے والد، کو منتقل ہوگئے۔ نواب احمد علی خان موروثی جانشینی کے ذریعے نواب کرنال بنے، جسے انگریزوں نے جاگیر (زمین کا عطیہ) کی صورت میں عطا کیا تھا۔ نواب رستم علی خان اپنی سخاوت کے لیے مشہور ہوئے، عوام کی بہبود کیلئے انہوں نے ہسپتال و اسکول پہ دل کھول کر عطیات دئیے۔ خاص طور پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو دیے گئے عطیات کے باعث انہیں قابل قدر نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا۔

لیاقت کے آباؤ اجداد کو 1857 کی بغاوت کے دوران ایک دھچکے کا سامنا کرنا پڑا جب کرنال کی خودمختار حیثیت ختم کر دی گئی اور صرف خطابات اور جاگیروں کا کچھ حصہ ہی ان کے پاس باقی رہ گیا۔ یہی وہ آزمائش تھی جس کا خاندان کو سامنا کرنا پڑا
امبالہ ڈویژن کے کمشنر، مسٹر الما لطیفی، کا نواب بہادر [نواب سجاد علی خان، لیاقت کے بڑے بھائی] کے ساتھ جھگڑا ہوگیا۔ انہوں نے حکومت کو یہ اطلاع دی کہ “نواب، جو اپنے آپ کو نواب کرنال کہلواتا ہے، اس کا اس لقب
پر کوئی حق نہیں کیونکہ یہ صرف ریاستی حکمرانوں کا استحقاق ہے۔ اسے صرف نواب سجاد علی خان بہادر ہی کہلانا چاہیے۔” سر میکالم ہیلی، گورنر پنجاب، نے فیصلہ دیا کہ اگرچہ الما لطیف کی جانب سے اپنے دائرے کے سب سے بڑے زمیندار سے جھگڑا کرنا مناسب نہ تھا، مگر قانونی طور پر اس کا مؤقف درست تھا۔
اس ناکامی کے باوجود، لیاقت کے رشتہ دار خوشحال اور نمایاں حیثیت حاصل کرتے رہے۔ نوابزادہ فیاض علی خان (کنچ پورہ کے)، نواب مختار علی خان، اور نواب عمر دراز خان (لیاقت کے سسر) اعزازی مجسٹریٹ تھے، جبکہ نوابزادہ ولایت علی خان اور نوابزادہ نعمت علی خان میونسپل کمشنر تھے۔
ان سب معززین میں سب سے نمایاں شخصیت نواب رستم علی خان، یعنی لیاقت علی خان کے والد، کی تھی، جن کی دولت اور مرتبہ کرنال میں ضرب المثل بن چکا تھا۔ نواب رستم علی خان کے بارے میں ہم زیادہ نہیں جانتے، سوائے اس عمومی تاثر کے کہ وہ مذہبی، روشن خیال اور فیاض تھے۔ ان کے بیٹے اور وارث نواب سجاد علی خان، یعنی لیاقت کے بڑے بھائی، کی ایک زیادہ واضح تصویر ہمارے پاس موجود ہے۔
لیاقت کے پرائیویٹ سیکرٹری، رحم علی ہاشمی، نواب سجاد علی خان کے بارے میں محبت اور عزت کے ساتھ لکھتے ہیں۔ وہ ان کی سخاوت، اردو شاعری سے محبت، اور فارسی ادب کے گہرے مطالعے کی تعریف کرتے ہیں، جو ایک ایسی خوبی تھی جو انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ بھی مشترک رکھی۔ ہاشمی اپنے آقا کے بارے میں زیادہ جوش و خروش کا اظہار نہیں کرتے، لیکن وہ تنقید بھی نہیں کرتے اور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ لیاقت علی خان نے ان کے ساتھ ہمیشہ عزت اور فیاضی کا برتاؤ کیا۔
لیاقت علی خان کے بارے میں چند حوالہ جات زیادہ قریب اور ذاتی نوعیت کے ہیں، بجائے اس کے جو باضابطہ سوانح عمریوں میں ملتے ہیں۔ لیاقت غیر معمولی طور پر ذہین اور مضبوط بچپن رکھنے والا بچہ تھا۔ اس کی شہادت کے صرف چار دن بعد، اس کے بچپن کے بارے میں ایک صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے، اس کی والدہ محمودہ بیگم نے یاد کیا: “نہیں، وہ عام طور پر شرارتی نہیں تھا، ہاں کبھی کبھار — اور اس کے والد نے اسے کبھی نہیں مارا۔ وہ اتنے نرم دل تھے کہ اسے مار ہی نہیں سکتے تھے۔ البتہ میں کبھی کبھار اس پر سختی ضرور کرتی تھی، خاص طور پر جب وہ بہت زیادہ پیسوں کا تقاضا کرتا تھا… لیکن مارنا؟ نہیں، کبھی نہیں۔”
اس اور محمودہ بیگم کے دیگر انٹرویوز سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ لیاقت علی خان کے اردگرد کی دولت، خوشحالی اور شان و شوکت نے اس کی شخصیت کو نکھارا تو ضرور، مگر اسے نرم مزاج نہیں بنایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دونوں والدین نہایت مذہبی تھے اور انہوں نے اپنی اولاد کو اعلیٰ اخلاقی اصول عطا کیے۔ لیاقت کے بچپن کے دو واقعات رمضان اور محرم کے مقدس مہینوں سے متعلق ہیں۔
لیاقت صرف چار سال کے تھے جب انہوں نے رمضان میں روزہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی والدہ نے انہیں کہا کہ وہ ابھی بہت چھوٹے ہیں اور ان پر روزہ فرض نہیں ہے۔ لیاقت خاموش رہے مگر ایک ملازم کے ساتھ منصوبہ بنا لیا جو انہیں سحری دے دیتا۔ جب والدہ نے ناشتے کے لیے بلایا تو لیاقت نے فخر سے اعلان کیا کہ وہ روزہ رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے بڑوں کے ساتھ مقررہ وقت پر روزہ کھولا اور اس مہینے کئی دن روزے رکھے۔
ایک مرتبہ محرم کے مہینے میں تعزیہ جلوس دیکھنے کے بعد انہوں نے اپنے دوستوں کو اکٹھا کیا، اپنا تعزیہ بنایا اور نوحے اور مرثیے اتنے جذبے سے پڑھے کہ والدہ اور گھر کی دیگر خواتین کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ یہ دونوں واقعات نہ صرف ان کی گہری مذہبی وابستگی بلکہ کم عمری میں ان کی غیر معمولی قوتِ ارادی کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔
ان کی والدہ کے بقول، لیاقت نوکروں کے ساتھ نہایت نرمی اور محبت سے پیش آتے اور کبھی سختی نہ کرتے۔ تاہم فطرتاً وہ ایک بچہ ہی تھے، اس لیے کبھی ضدی اور ہٹ دھرم بھی ہوسکتے تھے۔ ایک بار انہیں ریشمی شیروانی بہت پسند آئی اور انہوں نے اس وقت تک کھانے کو ہاتھ نہ لگایا جب تک ان کے لیے جلدی سے ایک شیروانی تیار نہ کی گئی۔
لیاقت کو دربار سجانے کا بھی شوق تھا۔ وہ اپنے دوستوں کو وزارتیں بانٹتے اور پھر ان کی فرضی شکایات سنتے اور متعلقہ “وزیر” کو حکم دیتے کہ انہیں حل کرے۔ تعلیم کے لیے لیاقت کے والد نے انہیں علی گڑھ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ علی گڑھ پہنچنے کے بعد لیاقت نے خود کو نمایاں کرنا شروع کیا۔ 1911ء کے علی گڑھ کلینڈر کے مطابق، جسے ڈاکٹر ضیاء الدین احمد نے مرتب کیا، اس وقت لیاقت ایم اے او کالیجیٹ اسکول کی چھٹی جماعت میں تھے۔ وہ اپنی جماعت کے مانیٹر اور اپنے ہوسٹل “انگلش ہاؤس” کی کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے اور اس سے قبل انہیں ڈبل پروموشن بھی مل چکی تھی۔
ڈبل پروموشن انہیں کچھ ڈرامائی انداز میں حاصل ہوئی۔ انہیں اول آنے پر انعام کے طور پر ایک کتاب دی جانی تھی، مگر انہوں نے انعام لینے سے انکار کرکے سب کو حیران کر دیا۔ جب ان کے اس غیر معمولی رویے کیوضاحت طلب کی گئی تو لیاقت نے کہا کہ وہ خود کسی بھی تعداد میں کتابیں خرید سکتے ہیں، لیکن انعام تب قبول کریں گے اگر اس کے ساتھ ڈبل پروموشن بھی دیا جائے۔ یہ بات کسی طرح تقریب کی صدارت کرنے والے انسپکٹر آف اسکولز پر خوشگوار اثر ڈال گئی، اور انہوں نے لیاقت کی شرط مان لی۔
جب لیاقت پہلی بار علی گڑھ گئے تو بہت دبلے پتلے تھے، لیکن کھیلوں کی سرگرمیوں کے باوجود ان کا وزن بڑھنے لگا۔ انہی کالج کے دنوں میں ان کی دلچسپیاں بھی وسعت اختیار کرنے لگیں۔ تعطیلات کے دوران کرنال میں رہتے ہوئے انہوں نے موسیقی کی تعلیم لی۔ ان کی آواز نہایت دلکش تھی اور انہوں نے اللہ بخش میراسی سے گانے کا فن سیکھا۔ ایک بنگالی موسیقار ہیما چندر نے انہیں پیانو بجانا سکھایا۔ اس کے علاوہ وہ شطرنج اور دیگر گھریلو کھیل بھی کھیلتے تھے۔
Most information is translated from Reza Kazmi’s book: Liaquat Ali Khan and some information from reliable webpages about history of Kernal