Muhajir Nation

مُہاجر قوم کیسے ؟

 مہاجر قوم، ایک نظریاتی و علمی جواز

بین الاقوامی ماہرینِ قومیت کے نظریات اور دینِ اسلام  کی روشنی میں 


قوم کے وجود کا سوال ہمیشہ سے سماجی علوم کا ایک مرکزی موضوع رہا ہے۔مُہاجر قوم کے حق میں علمی و نظریاتی نکات پیش کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اپنا وہ تعرف ضرور کردوں کہ جو میری طبعیت کا اولّین آئنہ دار ہے۔ ایک سچ جو آجتک نقش ہ۔  میں نے جب سے ہوش سنبھالا اخبارات کا مطالعہ کیا اور اسّی کی دہائی کے آغاز میں دورِ لڑکپن میں اپنے والد کے رہن سہن گفتگو میل ملاپ زبان و لہجہ کا عادی ہوتے ہوئے اپنے آرمی اسکول کینٹ پبلک کے اکثر  فوجی اساتذہ اور والد کے ساتھ اندرونِ سندھ شکار پہ جاکر وہاں انکے دوست و احباب کے مُختلف انداز اور ساتھ ساتھ شہر کراچی کے ساتھ زیادتی کی اخبارات میں شہ سُرخیوں سے خود کو مُہاجر ہونے کا احساس کیئے ہوا تھا۔اسکول کے زمانہ میں مُہاجر قومیت کا چرچا تو نہیں تھا مگر ڈی جے کالج کراچی میں پری میڈیکل میں آتے ہی کوٹہ سسٹم کی زیادتی کی کہانیوں  اور پھر این سی سی میں ایک صوبیدار کی ایک مخصوص لہجہ میں مجھ سے سگریٹ منگوانے اور میرے انکار پہ مجھے امتحان میں فیل کروانے کی دھمکی اور اس دھمکی کی شکایت جب میں میجر کیانی کے پاس لے کرجانےاور میجر کی صوبہ دار کی بے جا حمایت کے نتیجہ میں احتجاجاً این سی سی چھوڑ دینے کے عمل نے مجھے بالیقین مُہاجر قومیت کی تحریک کا تنہا رُکن بنایا۔ یہ سنہ ۱۹۸۴ تھا اور صرف سگریٹ لانے سے انکار پہ شہر کراچی کے ہزاروں طلبہ و طالبات میں صرف ۱۶ طالبعلم فیل ہوئے تھے جن میں میں بھی تھا۔ میرے خاندان، والد و والدہ کے رشتہ داروں و احباب میں کئی اہم فوجی افسران تھے۔والد نے ایک بریگیڈئر کے پاس بھیجا اور انہوں نے کہا کہ فلاں کرنل سے کہہ دیا ہے مل لو پاس ہوجاو گے مگر میں طے کر چکا تھا اور یہیں سے میرا مُہاجر قومیت کا سفر شروع ہو چکا تھا میں نے سفارشی طور پہ پاس ہونے کی بجائے فیل ہو کر این سی سی اگلے سال نا کرنے کا فیصلہ کیا۔ میرے لئے ۲ فیصد اضافی مارکس سے زیادہ اہم میری عزت نفس تھی ۔ میں بچپن سے شکار کا شوقین بہترین نشانہ باز تھا اور بہترین نشانہ لگانے کے باوجود  دھمکی کے نتیجہ میں فیل کیے جانے پہ برہم ۔ میرے ذہن میں وہ حقارت بھرے لہجے گہرا عکس چھوڑ گئے تھے۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ مجھے کسی لیڈر نے کسی قائد نے یا بانی نے شناخت نہیں دی۔ میں نے مُہاجر شناخت خود پائی ہے اور صرف مُہاجر قومیت کے نعرے پہ نہیں بلکہ مُہاجر قومیت آیئنی طور پہ منوانے کیلئے میں نے مُہاجر قومی مومنٹ کی طلبہ تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔ میری وفا صرف قومیت کے فسلفہ و نظریہ سے تھی اور ہے ۔ اور یہ مُختصر سا مضمون بھی اسی وفا کی عکاسی کریگا۔ مُہاجر ہونے کے باوجود میری اُردو اور اسکا املا کمزور ہے۔ میرا اچھا دوست زیشان مرزا میری اردو درست کرتا رہتا تھا مگر کافی عرصہ سے وہ بھی بہت مصروف ہے۔ میں خود صبح ساڑھے پانچ بجے اُٹھ کر ساڑھے چھ بجے ہسپتال نکل جاتا ہوں۔ امریکہ میں اینیستھیزیا کا ۲۶ سال سے کام آسان نہیں اکثر ۲۴ گھنٹے اور کبھی کبھار ۷۲ گھنٹے کی ڈیوٹی ہوتی ہے۔ روزآنہ  شام دیر تک کام کرنے کے بعد قومی مفاد میں تحقیق کرنا اور پھر لکھنا بہت دقت طلب امر ہے مگر یہ جنون ہے۔ اس جنون کو آج کے ہینڈ ہیلڈ فون اور سوشل میڈیا نے آسان کردیا ہے۔ پروردگار بہتر جانتا ہے کہ کتنی زندگی باقی ہے مگر جتنا موقع میسرآیا اپنی بھٹکتی سسکتی بلبلاتی گالیاں دیتی ذلیل و بائیکاٹ کرتی مگر دل سے  پیاری مُہاجر قوم کیلئے جو بن پڑا کرتا رہوں گا۔ یہ اوپن ڈاکیومنٹ ہے اسے جس طرح چاہیں بہتر و موثر کرسکتے ہیں۔ میرا کہا ہر لفظ و تحریر قوم کی امانت ہے۔ اب آئیے موضوع کی طرف آتے ہیں 

عالمی سطح پر  قوم و قومیت پہ درجنوں مُصنیفین کی سیکڑوں کُتب دستیاب ہیں اور ہر کتاب سے مُہاجر کو مکمل قوم ثابت کیا جاسکتا ہے۔ آئندہ مزید حوالہ بھی مرتب کردیں گے مگر فی الحال  مستند مفکرین جیسے بینڈکٹ اینڈرسن Benedict Anderson، ارنَسٹ جییلنر Ernest Gellner، اورانتھونی ڈی اسمتھ Anthony D. Smith کی کُتب سے چند حوالاجات و نکات آپ کے سامنے پیش کرکے  قوم کی تعریف اور تشکیل کے بنیادی اصول واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔ آخر میں قرآنی آیات و احادیث، رسول سے بھی مُہاجر قومیت کے دلائل پیش کئیے جایئں گے۔

درج بالا دُنیاوی مفکرین  کے  نظریات کی روشنی میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ “مہاجر” ایک مکمل ”قوم“ کے طور پر اپنے وجود کا جواز رکھتے ہیں — نہ صرف تاریخی اور ثقافتی حوالوں سے، بلکہ سیاسی و سماجی اصولوں کی رو سے بھی۔

1. مشترکہ تاریخی بیانیہ (Shared Historical Narrative)

بینڈکٹ اینڈرسن کے مطابق، قوم ایک”تصوراتی برادری”ہے، جو مشترکہ ماضی اور واقعات کی یاد سے جڑتی ہے۔مہاجر قوم کا وجود 1947ء کی ہجرت سے وابستہ ہے — ایک ایسا واقعہ جس میں لاکھوں افراد نے اپنے گھربار، زمین، اور کاروبار چھوڑ کر ایک نئے وطن کے لیے سفر کیا۔ یہ اجتماعی تجربہ مہاجر قوم کی شناخت کی بنیادی اینٹ ہے۔

حوالہ Benedict Anderson, Imagined Communities، صفحہ 6–7 (قوم ایک مشترکہ تاریخی شعور سے وجود میں آتی ہے)۔

2. مشترکہ زبان و ثقافت (Common Language & Culture)

ارنَسٹ جییلنر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جدید قومیت کے لیے یکساں زبان اور ثقافتی ہم آہنگی ضروری ہے۔

مہاجرین کی بڑی اکثریت اُردو زبان بولتی تھی اور آج بھی اردو اُن کی ادبی، سماجی اور تہذیبی شناخت کا مرکز ہے۔ اس زبان نے نہ صرف اُنہیں ایک دوسرے سے جوڑے رکھا بلکہ پاکستان میں ایک علمی و ادبی تحریک کو بھی جنم دیا۔

حوالہ  Ernest Gellner, Nations and Nationalism، صفحہ 38–39 (زبان اور تعلیم قومیت کے اہم ستون ہیں)۔

3. مشترکہ جغرافیائی شعور (Territorial Consciousness)

اینڈرسن کے مطابق قوم ایک محدود جغرافیائی حدود کو اپنا وطن مانتی ہے۔

گو کہ مُہاجر بانیانِ پاکستان ہیں اور پاکستان انکا وطن ہے مگر چونکہ پاکستان میں علاقائیت کے فروغ اور لسانی نفرت کے باعث ہر لسانی گروہ نے اپنا اپنا جغرافیہ منتخب کیا ہوا ہے اس لئے لازم ہے کہ مُہاجر بھی اپنی یکسانیت کے ساتھ ا[نی زمین و علاقہ سے نا صرف جڑے بلکہ اسکا کھل کر اظہار بھی کرے۔ مہاجر قوم کا جغرافیائی مقام متروکہ سندھ ہے۔

حوالہ : Benedict Anderson, *Imagined Communities، صفحہ 19–20 (قوم اپنی سرحدوں اور مرکز کو ذہنی طور پر تسلیم کرتی ہے)۔

4. سیاسی و معاشی مفاد کا اتحاد (Political & Economic Interest Unity)

گییلنر کے مطابق قومیت اس وقت مستحکم ہوتی ہے جب ایک گروہ اپنے ”سیاسی مفاد“ اور ”معاشی مستقبل“ کو یکساں سمجھے۔

مہاجر قوم نے پاکستان میں تعلیمی برتری، شہری معیشت، اور بیوروکریسی میں اپنی محنت سے مقام بنایا، لیکن ساتھ ہی ریاستی پالیسیوں اور لسانی و سیاسی تنازعات کے باعث کوٹہ سسٹم اور مُہاجر علاقوں میں غیر مقامیوں کا انتظامیہ میں مکمل اختیار اور مُہاجر عوام سے نہایت نفرت و حقارت کا رویہ ایک اجتماعی سیاسی شعور  پیدا کرنے کا باعث بنا ۔ یہ شعور اُنہیں اپنے حقوق کے لیے ایک قوم کے طور پر متحد کرتا ہے۔

حوالہ: Ernest Gellner, Nations and Nationalism، صفحہ 55–57 (سیاسی و معاشی اشتراک قومیت کو مضبوط کرتا ہے)۔

5. جدیدیت اور قوم کی تشکیل (Modernity & Nation-Building)

اینڈرسن اور گییلنر دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ قوم کوئی قدیم اور ازلی چیز نہیں بلکہ ”جدید حالات اور ضروریات“ کی پیداوار ہے۔ یہ نکتہ نہایت دلچسپ ہے کیوں کہ یہ مُہاجر دشمن سندھ کے نازی صفت بیانیہ کی بھرپور نفی و مذمت کرتا ہے۔ سندھ کا نسل پرست ذبردستی خود کو دراوڑ قوم کے ۵ ہزار سالہ ہڑپہ تہذیب سے جوڑ کر مُہاجر قوم کا تمسخر اُڑاتا ہے مگر اینڈیرسن اور گیلینر کے مطابق وہ سو فیصد غلط ہے۔ قدامت و طوالت زمانہ کسی کے قوم ہونے کی ضمانت نہیں۔ گزشتہ ۷۸ سال میں صوبہ سندھ میں مُہاجر عوام کے ساتھ ریاست و صوبائی حکومت نے بدترین حالات پیدا کیے اور ان حالات سے فائدہ اُٹھا کر جس طرح سندھ کے نام نہاد قوم پرستوں جو کہ نسل پرست ہیں مُہاجر سے نفرت و حقارت کی وہ مُہاجر کو ایک شاندار قوم بنانے میں ایک اہم مُحرّک ہے۔ 

مہاجر قوم بھی ایک جدید قومی شناخت رکھتی ہے — جس کا آغاز ایک مخصوص ہجرتی پس منظر سے ہوا، بدترین صعوبتیں برداشت کرکے  شہری جدید معاشرت میں پروان چڑھی۔ یہ جدید قومیت اُنہیں دوسرے نسلی و لسانی گروہوں سے ممتاز کرتی ہے۔

حوالہ: Benedict Anderson, Imagined Communities، صفحہ 12–13؛ Ernest Gellner, Nations and Nationalism، صفحہ 46–48۔

6. قربانی اور اجتماعی یادداشت (Sacrifice & Collective Memory)

ہر قوم قربانی کی روایات سے اپنی شناخت کو مستحکم کرتی ہے۔ مہاجر قوم کی اجتماعی یادداشت میں ہجرت کے دوران جانی و مالی قربانیاں، بے گھر ہونے کا دکھ، اور نئے وطن میں ازسرنو تعمیر کا عمل شامل ہے۔ یہ روایات آنے والی نسلوں میں بھی اُنہیں ایک قوم کے طور پر جوڑتی ہیں۔ ساتھ ساتھ قیامِ پاکستان سے قبل انڈیا میں مسلمانوں کی آزادی کی ۹۰ سالہ مشترکہ تحریک، اس سے قبل سیکڑوں سالوں پہ مُحیط ادوارِ حکمرانی۔ 

حوالہ: Anthony D. Smith, *The Ethnic Origins of Nations، صفحہ 25–26 (قومی شعور میں قربانی کا کردار)۔

بینڈکٹ اینڈرسن کے “تصوراتی برادری” کے تصور، ارنَسٹ جییلنر کے “لسانی و ثقافتی یکسانیت” کے اصول، اور انتھونی ڈی اسمتھ کے “قربانی و تاریخی وراثت” کے نظریے کو یکجا کر کے واضح کیا جا سکتا ہے کہ“مہاجر قوم“ ایک مکمل ”قوم“ کی تعریف پر پورا اترتی ہے:

اُن کا ایک مشترکہ تاریخی بیانیہ ہے (ہجرت)

ایک متحد زبان و تہذیب ہے (اردو اور شہری ثقافت)

ایک علامتی جغرافیائی مرکز ہے (متروکہ سندھ)

سیاسی و معاشی مفادات میں اتحاد ہے

قربانی اور اجتماعی یادداشت اُنہیں نسل در نسل جوڑتی ہے

گوکہ ماضی کی احمقانہ، خودغرض اور بے غیرت و بُذدل قیادت نے ”مُہاجر“ کو ذاتی انا و سیاست کیلئے نعرے کے طور پہ استعمال کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ الطاف نامی شخص جسے مُہاجر قوم کے بے پناہ کُند و بند دماغ اس شخص کے بے پناہ جرائم و ذلالتوں کے باوجود اسے اپنا نجات دہندہ سمجھ کر اس سے اُمید لگائے بیٹھے ہیں یا اس سے عقیدت رکھتے ہوئے مُہاجر قوم کا باپ و بانی سمجھتے ہیں مگر اس علمی فریم ورک کے مطابق، مہاجر قوم کا وجود صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ سماجی و سیاسی اصولوں کی روشنی میں ایک ”سنجیدہ حقیقت“ ہے۔

7. قوم اور قومیت قرآن، حدیث اور اسلام کی روشنی میں

قوم اور قومیت کے تصورات کو اکثر غلط سمجھا گیا ہے—اس حوالہ سے جماعت اسلامی سمیت مُہاجر قوم کے بیشتر مذہبی حلقہ اور مولوی قران و اسلام کے واضح  پیغام کو درست انداز میں سمجھ نہیں پائے یا سمجھتے بوجھتے اپنی سیاست و فرقہ بازی کیلئے مُہاجر قومیت پہ نا صرف یہ کہ دلائل نہیں دیتے بلکہ بیشتر اسکی شدید مُخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔ میں نے کئی شعیہ علما کو دیکھا ہے کہ بجائے خود کو مُہاجر کہیں وہ سندھی کہلوا کر دراصل اپنی مجالس کی اندرون سندھ گارنٹی لے لیتے ہیں۔ اگر ایسا نا کریں تو خونِ حُسین کا سودا کیسے کریں گے۔ یہی حال اہلسنت کا بھی ہے لبیک پارٹی بنا کر مُہاجر جوانوں پہ ہی حملے کون سا اسلام۔ باقی بے پناہ مُفتی و مولوی کبھی بھی مُہاجر قومیت پہ قران و سنت سے دلائل نہیں دیتے۔ انکے برعکس سندھ کے مولوی ایسا لگتا ہے کہ وہ لادین قوم پرست ہوں۔

 حقیقت یہ ہے کہ اسلام انسانی فطرت میں شامل اس میلان کو تسلیم کرتا ہے کہ انسان مختلف جماعتوں، قبیلوں اور قوموں میں منظم ہوتا ہے۔ اگر قومیت کو وطن اور اپنی قوم سے محبت، وفاداری اور خدمت کے معنی میں لیا جائے—بغیر تکبر، نسل پرستی یا ظلم کے—تو یہ قرآن و سنت کے اصولوں سے مطابقت رکھتی ہے۔ اسلام تمام مسلمانوں میں اتحاد کا قائل ہے، مگر اقوام کے تنوع کو اللہ کی حکمت کا حصہ بھی مانتا ہے۔

۱۔ قرآن میں قومیت کی بنیاد

قرآن مجید بار بار بیان کرتا ہے کہ انسانوں کو مختلف قوموں اور قبیلوں میں پیدا کیا گیا ہے، تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچان سکیں، نہ کہ باہمی دشمنی کریں: ’’اے لوگو! بے شک ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بیشک تم میں سب سے زیادہ عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔‘(سورۃ الحجرات 49:13)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ قوم اور قبیلے اللہ کی تخلیق کا حصہ ہیں۔

فضیلت نسل یا قوم پر نہیں بلکہ ”تقویٰ“ پر ہے۔ 

قومی شناخت معاشرتی نظم اور باہمی تعاون کا جائز ذریعہ ہے۔

اسی طرح قرآن فرماتا ہے کہ ہر قوم کا ایک وقت اور ذمہ داری ہوتی ہے:

’’ہر امت کے لیے ایک وقت مقرر ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو نہ وہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘‘(سورۃ یونس 10:49)

یہ ظاہر کرتا ہے کہ اقوام کا اپنا اجتماعی کردار اور تاریخی مشن ہوتا ہے۔

۲۔ نبی کی وطن سے محبت کی مثال

نبی اکرم ﷺ نے اپنے وطن مکہ سے گہری محبت کا اظہار فرمایا، حتیٰ کہ جب آپ کو ہجرت پر مجبور کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

’’اللہ کی قسم! تم اللہ کے نزدیک سب سے بہتر زمین ہو اور میرے لیے بھی سب سے محبوب ہو۔ اگر تمہارے لوگ مجھے یہاں سے نہ نکالتے تو میں کبھی تمہیں نہ چھوڑتا۔‘‘(ترمذی، حدیث 3925 – حسن)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ وطن سے محبت فطری اور جائز ہے۔ یہ محبت اسلامی اصولوں کے خلاف نہیں بلکہ انسانی فطرت کا حصہ ہے۔

۳۔ اسلام میں قومی ذمہ داری

اسلام مسلمانوں کو اپنی قوم کے حالات سے باخبر رہنے، اس کی حفاظت کرنے اور عدل قائم رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جو شخص صبح کرے اور گروہی  معاملات کی فکر نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘ (السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث 20594)*

یہ حدیث قومی ذمہ داری کے تصور کو تقویت دیتی ہے—اپنی قوم کی فلاح، سلامتی اور خوشحالی کی فکر اسلامی فریضہ ہے۔

۴۔ قومی اتحاد اور بھائی چارہ

اسلام قوموں اور قبیلوں کے وجود کو تسلیم کرتا ہے مگر نسلی غرور، عصبیت اور ظلم سے منع کرتا ہے۔ نبی ﷺ نے عصبیت سے خبردار فرمایا: ’’وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی طرف بلائے، اور وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت کے لیے لڑے، اور وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت پر مرے۔(ابو داؤد، حدیث 5119)

یہ حدیث وطن یا قوم سے جائز محبت کو منع نہیں کرتی—بلکہ اس عصبیت کو منع کرتی ہے جو ناانصافی اور فرقہ واریت پیدا کرے۔ لہٰذا اسلام میں قومیت شمولیت پسند، اخلاقی اور ظلم سے پاک ہونی چاہیے۔ اب یہاں یہ امر نہایت اہم ہے کہ سندھ کے نسل پرست و نام نہاد قوم پرست جب بھی مُہاجر قومیت کے بات آئے تو لمحہ ضائع کئیے بغیر کہہ دیتے ہیں کہ آپ مُہاجر نہیں سندھی بنیے۔ بار بار بلاوجہ اور بلا ثبوت مُہاجر کو پناہ دینے کی جھوٹی کہانیاں گڑھتے ہیں۔ 

اسلام میں جائز قومیت کے اجزاء یہ ہیں: حب الوطنی وطن سے محبت ایک فطری اور اخلاقی قدر۔ قوم کی خدمت عدل، دفاع اور فلاح کے ذریعے۔ ثقافت اور زبان کا تحفہ اللہ کی تخلیقی تنوع کا حصہ۔ قومی شناخت امت کے اتحاد کے خلاف نہ ہو۔

اس طرح اسلام کی نگاہ میں قومیت ناجائز ہوجائے گی اگر اس درج ذیل عناصر شامل ہوں :

نسلی یا لسانی برتری کا دعویٰ۔ دوسری قوموں یا اقلیتوں پر ظلم۔ اسلامی اقدار کو چھوڑ کر محض مادی یا سیکولر فخر میں مبتلا ہونا۔ مختصر یہ کہ اسلام ایسی قومیت چاہتا ہے جو دلوں کو جوڑے، وطن کی حفاظت کرے، قوم کی خدمت کرے اور اللہ کے عدل کو قائم رکھے۔

اس کو اختصار و نقائص مگر مکمل یقین و اعتماد سے پہلی بار پی ڈی ایف کی شکل میں شائع کرکے احباب کو شریک گفتگو بنالینا اس لئے ضروری سمجھا کہ بہتری کے انتظار میں میری زندگی تمام ہوجائے اور یہ نکات پہنچنے سے رہ جائیں مناسب نہیں۔ پروردگار نے توفیق دی تو اس مضمون کو مزید گہرائی و وسعت دوں گا۔ انشااللّہ 

ندیم رضوی ایم ڈی 

متروکہ سندھ تحریک 

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp