سندھ بمبئی سے علیحدہ ہو کر الگ صوبہ کیسے بنا: تاریخ، مُہاجر قوم کے مسلم لیگ کے روحِ رواں بزرگوں کا کردار، اور ‘‘دھرتی ماں’’ کا سوال!
سندھ کو یکم اپریل ۱۹۳۶ء کو بمبئی پریذیڈنسی سے الگ کر کے گورنر کا صوبہ بنایا گیا۔ یہ فیصلہ محض جغرافیائی سہولت یا سندھی زبان کی بنیاد پر خود بخود نہیں ہوا۔ برطانوی دستاویزات، گول میز کانفرنس کی کارروائی، اور آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس بتاتے ہیں کہ الگ صوبہ بننے کا فیصلہ اس وقت ممکن ہوا جب یہ مطالبہ مسلمانوں کے آل انڈیا آئینی ایجنڈے کا حصہ بن گیا۔ اس سے پہلے مقامی کوششیں بار بار ناکام رہیں۔ سندھ کے بہت سے ہندو رہنما اس علیحدگی کے مخالف تھے کیونکہ الگ سندھ انہیں اقلیت بنا رہا تھا جو سندھ کے ہندو کے مفاد میں تھا جبکہ وہ سیاسی طور پر پوری ہندوستان کو ایک دھرتی مانتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ‘‘سندھ دھرتی ماں’’ کا نعرہ اسی تاریخ سے ٹکراتا ہے: اصل ‘‘دھرتی ماں’’ یعنی متحدہ ہند کو تقسیم کر دیا گیا، اور سندھ کا صوبائی وجود اسی تقسیم سے پہلے مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کا نتیجہ تھا۔
۱۸۴۳ء میں انگریزوں نے سندھ فتح کیا۔ ۱۸۴۷ء میں اسے بمبئی پریذیڈنسی سے جوڑ دیا گیا۔ انتظامی شکایتیں انیسویں صدی کے آخر سے موجود تھیں کہ سندھ دور دراز ہے اور نظرانداز ہوتا ہے۔ مگر یہ شکایتیں برسوں بحث بنی رہیں، سندھی کے وڈیروں اور مسلم اکثریت کے متواتر مطالبہ پہ ۸۸ سال تک عمل نا ہوا۔
انیس سو تیرا میں انڈین نیشنل کانگریس کے کراچی اجلاس میں غلام محمد بھرگری نے سندھ کی علیحدگی کا مطالبہ جغرافیائی، لسانی اور ثقافتی بنیاد پر پیش کیا۔ اس مرحلے پر سندھ صوبہ بنانے کی تحریک کو مقامی ہندو-مسلم مشترکہ کاوش کے طور پہ پیش کرنے کیلئے چند قابل ذکر ہندؤں کو اس میں شامل کیا گیا باکل ایسے ہی جیسے آج آپ دیکھتے ہیں کہ چند ناکارہ مہاجر قوم کے افراد کو پاکستان میں مزید صوبوں کے قیام کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ ۔ ۱۹۱۷ء سے ۱۹۲۰ء تک سندھ پراونشل کانفرنس میں الگ صوبے کے متعدد متبادل زیر بحث آئے، مگر اتفاق نہ ہوا۔ ۱۹۲۱ء میں بمبئی لیجسلیٹو کونسل میں آئی ایس حاجی نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۱۹ء کے تحت کمیٹی مقرر کرنے کی قرارداد کا نوٹس دیا تاکہ سندھ کو لیفٹیننٹ گورنر کا صوبہ بنایا جائے۔ یہ پیش قدمی مادی شکل نہ اختیار کر سکی۔ مقامی فورمز، بمبئی کونسل، اور کانگریسی پلیٹ فارم پر بات ہوئی، مگر برطانوی حکومت اور سندھ کے مقامی ہندؤں کے مفادات کے سامنے وزن نہ بنا۔اب آپ ندیم رضوی کو چاہے کتنی گالیاں دے دیں مگر ان حقائق کو کیسے جھُٹلائیں گے کہ جس صوبہ کا قیام مسلم مفاد کے باعث رد کردیا گیا ہو، رد کرنے والے ہندو ہوں جو دھرتی ماں کے فلسفہ کے حامی ہیں تو یہ صوبہ آج دھرتی ماں کیسے ؟ نعرے بازی و جھوٹ اپنی جگہ مگر کوئی دلیل نہیں ملے گی۔
یہی وہ ناکامی ہے جسے علی گڑھ سے پہلے کی لیگی تحریک سے جوڑ کر دیکھنا ضروری ہے۔ جب تک مطالبہ صرف ‘‘سندھ کی شناخت’’ رہا، وہ بمبئی انتظامیہ اور ہندو مخالفت کے سامنے کمزور رہا۔ جب اسے مسلمانوں کی نمائندگی، مسلم اکثریتی صوبے، اور آل انڈیا آئینی ضمانتوں سے جوڑا گیا، تب سیاسی وزن پیدا ہوا۔
انیس و بیس کی دہائی کے وسط میں رنگ بدل گیا۔ الگ سندھ میں مسلمان اکثریت اور ہندو اقلیت بننے والے تھے۔ ہندو مہاسبھا اور سندھ کے ہندو اس خوف کو کھلے عام بیان کرنے لگے ۔ ۱۹۲۷ء کے سکھر ہندو سمیلن میں ‘‘سندھ کے ہندو خطرے میں’’ جیسی سرخیاں نکلیں۔ بہت وہ سندھی ہندو جو پہلے مشترکہ شناخت کی بات کرتے تھے، اب علیحدگی کے مخالف ہو گئے۔ ان کے نزدیک سیاسی ماں پوری ہند تھی، نہ کہ ایک ایسا صوبہ جو مذہبی اکثریت کی بنیاد پر کاٹا جائے۔ ‘‘دھرتی ماں’’ کا تصور ان حلقوں میں متحدہ ہندوستان سے جڑا تھا: ایک جغرافیائی و تہذیبی اکائی جسے صوبوں میں مذہبی بنیاد پر توڑنا انہیں قبول نہ تھا۔
اسی مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ درمیان میں آئی، کیونکہ مقامی طاقت کافی نہ تھی۔
۳۰ دسمبر ۱۹۲۵ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس علی گڑھ میں ہوا۔ یہاں سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی قرارداد منظور ہوئی۔ یہ وہ موڑ ہے جہاں مقامی ناکامی کے بعد مطالبہ آل انڈیا مسلم پلیٹ فارم پر چڑھا۔
۱۳ دسمبر ۱۹۲۶ء کے لیگ اجلاس میں بھی سندھ کو صوبہ بنانے کا مطالبہ دہرایا گیا۔ ۲۰ مارچ ۱۹۲۷ء کے دہلی مسلم پروپوزلز میں تیس مسلم رہنماؤں نے مشترکہ انتخابی حلقوں کی پیشکش اس شرط پر کی کہ سندھ بمبئی سے الگ صوبہ بنے۔ اس اجلاس میں سندھ کا ایک بھی نمائندہ نا تھا۔
دہلی مسلم پروپوزلز (۲۰ مارچ ۱۹۲۷ء) میں یوپی اور سندھ سے شامل افراد
۲۰ مارچ ۱۹۲۷ء کو دہلی میں محمد علی جناح کی صدارت میں منعقدہ اس کانفرنس میں تقریباً ۳۰ مسلم رہنما شریک ہوئے۔ دستیاب تاریخی ذرائع کے مطابق یوپی (United Provinces) سے درج ذیل افراد شامل تھے:
یوپی سے شرکاء
• راجہ محمود آباد
• مولانا محمد علی جوہر
• مولوی محمد یعقوب خان
• نواب محمد اسماعیل خان
• ڈاکٹر مختار احمد انصاری
• سید علی نبی
۱۹۲۷ء کے دہلی پروپوزلز نے سندھ کی علیحدگی کو آل انڈیا مسلم سیاسی مطالبات کا مرکزی حصہ بنا دیا۔ اس سے پہلے یہ زیادہ تر مقامی مطالبہ تھا، لیکن اب اسے مسلمانوں کے مجموعی آئینی تحفظات سے جوڑ دیا گیا۔
۱۹۲۹ء میں محمد علی جناح کے چودہ نکات میں نواں نکتہ صاف تھا: سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے الگ کیا جائے۔
اس کے بعد برطانوی سطح پر اصل فیصلہ گول میز کانفرنسوں میں ہوا۔
پہلی گول میز کانفرنس ۱۲ نومبر ۱۹۳۰ء سے ۱۹ جنوری ۱۹۳۱ء تک لندن میں ہوئی۔
گول میز کانفرنس میں یو پی اور پنجاب کے مسلم نمائندے
گول میز کانفرنسز (۱۹۳۰-۱۹۳۲ء) میں مسلم لیگ اور مسلمانوں کی نمائندگی مختلف صوبوں سے تھی۔ سندھ کے معاملے کے تناظر میں یو پی اور پنجاب سے اہم نمائندے یہ تھے:
پنجاب سے
• سر شفیع محمد
پنجاب کے ممتاز رہنما اور مسلم لیگ کے اہم رہنما۔ وہ الگ انتخابی حلقوں کے مضبوط حامی تھے۔
• علامہ محمد اقبال
• بیگم جہاں آرا شاہنواز خواتین نمائندہ، پنجاب سے۔
• راجہ شیر محمد خان آف ڈومیلی پنجاب سے متعلق رہنما۔
یو پی سے
• ڈاکٹر شفاعت احمد خان یو پی سے وابستہ اہم مسلم مندوب۔
• مولانا محمد علی جوہر
• حافظ ہدایت حسین
یو پی سے مسلم لیگ کے نمائندے۔
• نواب محمد احمد خان چھتری یو پی
پہلی گول میز کانفرنس میں سندھ سے سر شاہنواز بھٹو اور سر غلام حُسین ہدایت اللہ شریک تھے۔
پہلی کانفرنس میں نو سب کمیٹیاں بنیں۔ سندھ کے لیے سب کمیٹی نمبر IX (Sind) قائم ہوئی۔ اس کے اجلاس ۱۲، ۱۳ اور ۱۴ جنوری ۱۹۳۱ء کو سینٹ جیمز پیلس میں ہوئے۔ چیئرمین ارل رسل تھے۔ برطانوی اراکین میں مارکوئس آف زیٹ لینڈ اور مارکوئس آف ریڈنگ شامل تھے۔ مسلم اراکین میں آغا خان، محمد علی جناح (بمبئی)، سر شاہنواز بھٹو (سندھ)، سر غلام حسین ہدایت اللہ (سندھ)، سر عبدالقیوم (سرحد)، سر محمد شفیع (پنجاب) اور ڈاکٹر شفاعت احمد خان (یو پی) تھے۔ غیر مسلم اراکین میں سردار سمپورن سنگھ (سکھ، پنجاب)، ڈاکٹر بی ایس مونجے (ہندو مہاسبھا)، ایم آر جے کر، راجا نریندر ناتھ (ہندو، پنجاب)، سی وائی چنتامانی (لبرل، یو پی)، بی وی جاڈھو، سر فیروز سیٹھنا (پارسی)، ایچ پی موڈی اور سر ہیوبرٹ کار (یورپین) شامل تھے۔ ڈاکٹر مونجے سندھی نہیں تھے؛ ان کی پیدائش بلاسپور، سنٹرل پراونسز میں ہوئی اور وہ مہاراشٹر/ناگپور کی ہندو مہاسبھا سیاست سے تھے۔
یہاں یہ بات قابلِ غور ہے سندھ کے ہندؤں نے ہندو مہا سبھا کے غیر سندھی ڈاکٹر مونجے کو اپنی قیادت سونپی کہ وہ قابل انسان تھے اور یقین تھا کہ وہ صوبہ کے قیام کو روک دیں گے جبکہ سندھ کے مسلمان نمائندے اکیلے نہیں گئے بلکہ مسلم لیگ کے قابل ترین ذہنوں پہ انحصار کیا جو غیر سندھی تھے۔
کمیٹی کی اکثریت نے اصولی طور پر علیحدگی قبول کی، بشرطیکہ سندھ مالی طور پر خود کھڑی ہو سکے۔ دو نے شدید مُخالفت کئ ڈاکٹر مونجے اور راجا نریندر ناتھ جو سندھ کے ہندؤں کی نمائندگی کررہے تھے اور اکھنڈ دھرتی ماں ہند کے قائل تھے۔ ۔ پارسی رکن سر فیروز سیٹھنا نے کہا کہ علیحدگی ٹھیک ہے مگر سندھ کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہیے۔ یعنی غیر مسلم لیگی اراکین میں بھی مکمل اتفاق نہ تھا، مگر اصولی قبولیت مالی شرط کے ساتھ نکل آئی۔ دوسری گول میز کانفرنس (۷ ستمبر تا یکم دسمبر ۱۹۳۱ء) میں یہ اصول آگے بڑھا؛ تیسری کانفرنس (نومبر–دسمبر ۱۹۳۲ء) کے بعد برطانوی حکومت نے علیحدگی کو آئینی خاکے کا حصہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا۔
شامل تھے۔
گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ء نے سندھ کو گورنر کا صوبہ قرار دیا اور یکم اپریل ۱۹۳۶ء کو سندھ الگ صوبہ بن گیا۔
سندھ صوبہ کے قیام کی ٹائم لائن :
بمبئی کونسل کی ۱۹۲۱ء کی ناکام کوشش
علی گڑھ ۱۹۲۵ء،
دہلی مسلم پروپوزلز ۱۹۲۷ء، چودہ نکات
۱۹۲۹ء، پہلی گول میز کی سب کمیٹی IX جنوری
۱۹۳۱ء، مالی و انتظامی کمیٹیاں
۱۹۳۱–۳۴ء، پھر ۱۹۳۵–۳۶ء کا قانونی نفاذ۔
مسلمان ہونے کے ناطے مسلم اکثریتی صوبہ بنانا لیگ کے ایجنڈے کا حصہ تھا؛ سندھ کے ہندو اس پر راضی نہ تھے کیونکہ ان کی سیاسی ماں پوری ہند تھی۔
قیام پاکستان کے بعد ‘‘دھرتی ماں’’ کا سوال اسی تاریخ سے ٹکراتا ہے۔ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کی لاہور قرارداد کے بعد سندھ اسمبلی نے ۱۹۴۳ء میں مسلمانوں کے لیے الگ مملکت کی حمایت کی۔
اگر اصل دھرتی ماں متحدہ ہند تھی—جیسا کہ سندھ کے بہت سے ہندو علیحدگی کے خلاف کہتے رہے—تو وہ دھرتی ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہو چکی۔ سندھ کا صوبائی وجود اس تقسیم سے گیارہ سال پہلے مسلم لیگ کی کاوش اور برطانوی آئینی تصفیے سے وجود میں آیا۔ اس کے بعد سندھ کو اس طرح ‘‘دھرتی ماں’’ بنانا کہ جیسے وہ متحدہ ہند کی جگہ لے لے، تاریخی ترتیب کے خلاف ہے: صوبہ مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد سے بنا، ہندو اس پر اس لیے راضی نہ تھے کہ ان کی ماں پوری ہند تھی، اور وہ ہند تقسیم ہو گئی۔
تاریخ یہ نہیں کہتی کہ سندھ کی الگ شناخت کا کوئی لسانی یا جغرافیائی پہلو نہ تھا بلکہ یہ کہتی یہ ہے کہ قوم و دھرتی کی پہچان کی بات اکیلے صوبہ نہ بنا سکی۔ صوبہ اس وقت بنا جب آل انڈیا مسلم لیگ نے اسے مسلمانوں کے آئینی حقوق کا حصہ بنایا، گول میز کی سب کمیٹی IX نے اصول منظور کیا، اور ۱۹۳۵ء کے ایکٹ نے قانون دے دیا۔ جو لوگ آج سندھ کو اس طرح دھرتی ماں کہتے ہیں جیسے وہ تقسیمِ ہند سے بالاتر کوئی ازلی اکائی ہو، انہیں اسی ریکارڈ سے ٹکرانا پڑتا ہے: الگ صوبہ مسلم لیگ کی کاوش سے مسلمان اکثریت کی سیاست کے تحت بنا، سندھ کے ہندو اس پر اس لیے راضی نہ تھے کہ ان کی دھرتی ماں سارا ہند تھا، اور وہ ہند تقسیم کر دی گئی۔
ڈاکٹر ندیم رضوی ایم ڈی
متروکہ سندھ تحریک