تقسیم سندھ یا نئے صوبوں کا قیام !
متروکہ سندھ تحریک و مُہاجر قومی تحریک کا پالیسی بیان
گاہے بہ گاہے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا شوشہ نا صرف یہ کہ اُٹھتا رہتا ہے بلکہ ناعاقبت اندیش سیاستدان اس معاملہ پہ اپنی سیاسی دُکانیں سجاتے و چلاتے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کئی بار صوبہ سندھ میں مزید صوبوں کے قیام کے مطالبات ہی نا صرف کرچکی ہے بلکہ ماضی میں متحدہ کے حالیہ کاغزی چئیرمین ڈاکٹر خالد مقبول ارشاد فرما چُکے ہیں کہ ” صوبہ تو بن گیا بس اعلان باقی ہے“ اور گزشتہ ہفتہ یہی بیان ڈاکٹر فاروق ستّار جنکا سیاسی قد اپنی پارٹی میں ہی بہت چھوٹا ہے، نے بھی جاری کیا۔ ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ متحدہ پاکستان کی جڑیں نا صرف یہ کہ عوام میں نہیں بلکہ اسکی پاکستان میں بچھی سیاسی بساط میں حیثیت کسی کٹھ پُتلی سے زیادہ نہیں۔ مگر ان ناکارہ نام نہاد لیڈروں کے بیان فرزندانِ متروکہ سندھ مُہاجر قوم کے نادانوں کو بلاوجہ ہیجان میں مبتلا کردیتے ہیں اور ساتھ ساتھ سندھی بولنے والے نسل پرست جواباً مُہاجر قوم کی تمام محبتوں کاوشوں اور رعایتوں کو بالائے طاق ڈال کر مغلظات کا طوفان اُنڈیل دیتے ہیں۔
متروکہ سندھ تحریک سیاسی ڈرامہ بازیوں و کٹھ پُتلی تماشہ سے بہت دور نظریاتی سرحدوں کی محافظ مُہاجر قومیت کی ایک ایسی تحریک ہے جو ایم کیوایم کی منافقانہ و مفاد پرستانہ سیاسی قلابازیوں سے مُہاجر قوم کو محفوظ رکھنے کا عزم لے کر اپنا کام کررہی ہے۔ متروکہ سندھ و مہاجر قومی تحریک ایم کیوایم کی گزشتہ ۴۰ سالہ سیاسی قلابازیوں کی نا صرف نشاندہی کرتی ہے بلکہ مُہاجر قوم کو ہر چھوٹے بڑے مسلہ پہ نظریاتی راہنمائی کرتی ہے۔ وہی متحدہ جس نے ۴ سال مُہاجر کلچر ڈے کی شدید مخالفت کی وہیں متروکہ سندھ تحریک اوّل دن سے مُہاجر کلچر ڈے کی حمایتی تھی کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ بغیر ثقافت قوم نہیں۔ بالکل ایسے ہی کہ جب مُہاجر قیادتیں مُہاجر قوم کی زمین متروکہ سندھ پہ خاموشی یا منافقت یا حماقت کا مظاہرہ کرتی ہیں تو ندیم رضوی ان کی تصیح و وضاحت اس لئیے کرتا ہے کہ کہیں دُنیا ان لیڈروں کے باعث متروکہ سندھ کے نظریہ کو غلط نا سمجھے۔

اب بات کرتے ہیں صوبوں کے قیام کی تو جناب اوّل تو صوبوں کے قیام کا طریقہ کار موجودہ آئین میں موجود ہے اور اس طریقہ کار پہ متحدہ سمیت تمام مُہاجر قیادت اس وقت مکمل خاموش رہی جب اسے ۱۸ویں ترمیم کے ذریعہ آئین کا حصّہ بنایا جارہا تھا۔ طریقہ کار ہے کہ جب صوبہ کی ۲/۳ اکثریت چاہے کی موجودہ صوبے میں مزید صوبہ بن سکتے ہیں۔ یہ آئنی طریقہ متحدہ پاکستان نے اپنے جوبن کہ جب مُہاجر کا بھاری ترین مینڈیٹ انکے پاس تھا پیپلزپارٹی کے ساتھ ملکر منظور کروایا۔ قیامِ صوبہ کا یہ طریقہ ۲۰۱۰ میں صرف پنجاب کے چند سینیٹرز کے اختلاف کے ساتھ منظور ہوا۔ اب متحدہ کی جانب سے یا کسی بھی مُہاجر حلقہ کی جانب سے نئے صوبہ کے قیام کا کوئی اور طریقہ و اشارہ دیا جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔
پاکستان کے دیگر صوبوں کے بر خلاف صوبہ سندھ کی صورت حال بڑی مُختلف ہے۔ قیام پاکستان پہ کسی اور صوبہ کو سماجی و ثقافتی اُتھل پتھل کا سامنا نا کرنا پڑا تھا جو صوبہ سندھ کو کرنا پڑا۔ ہم اس تفصیل میں اس اعلامیہ میں نہیں جارہے کہ قیام پاکستان سے کس کو کس قدر نقصان ہوا مگر یہ طے ہے کہ انڈیا کے مسلمان انڈیا ہی نہیں بلکہ پاکستان میں ابتک اس سانحہ کے اثرات کا سامنا کررہے ہیں۔ سندھی بولنے والا نا صرف اپنی ثقافت و سماج کو برقرار رکھنا چاہتا ہے بلکہ وہ اچھی طرح سمجھتا ہے کہ کراچی سندھ کا معاشی سر ہے۔ گوکہ ہم مُہاجر قومیت اور اسکی زمین پہ مُہاجر حق کے نا صرف دلائل دیتے ہیں بلکہ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ مُہاجر و سندھی بولنے والے سماجی و ثقافتی طور پہ الگ الگ اکائیاں ہیں۔گزشتہ ۷۸ سال کے سیاسی فیصلوں اور رویّوں نے مُہاجر کو ایک مکمل مگر ساتھ ساتھ ذمہ دار قومیت میں تبدیل کردیا ہے۔ ایسی قومیت جسکی تعلیم پہ حملہ ہوا، جسکی معیشت پہ حملہ ہوا، جسکو کوٹہ سسٹم کی آڑ میں بہت پیچھے دکھیلنے کی ایک طرف کوشش کی گئی تو بے پناہ مُہاجر دماغ و رئیس وطن ترک کرگئے۔ مگر اس کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ تبادلہ آبادی زمین کے تحت مُہاجر اور اسکی زمین متروکہ سندھ کراچی سے کشمور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ تاریخی طور پہ کراچی و حیدرآباد ماضی میں سندھ کا حصّہ رہے ہیں اور اہل سندھ کی ایک بڑی تعداد اس صوبہ کی مزید تقسیم یا نئے صوبوں کے قیام پہ تیار نہیں۔
متروکہ سندھ تحریک اگر ایک طرف سارے سندھ میں مُہاجر قوم کے لئے مساوی حقوق کی دعویدار ہے وہیں صوبہ سندھ میں مزید صوبوں کے قیام کی بھی مُخالف ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا بُنیادی مسلہ مشترکہ قومی حمیت و احساس کی کمی ہے۔ مُہاجر قومیت کے مسائل کا حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ پوری مُہاجر قوم نظرہاتی طور پہ ایک صفحہ پا آکر قومی مفاد پہ سندھی بولنے والوں اور انکی نمائندہ جماعتوں سے ڈائلاگ نہیں کرتی۔ ہر مُہاجر کو نظریاتی بننا پڑیگا، اپنے حقوق کا خود دفاع و مطابلہ کرنا ہوا۔ ماضی میں قانون سازی کے مواقع برباد کرنے والی ایم کیوایم مکمل طور پہ ناکارہ ہے ۔ مُہاجر قوم کے ہر مسلہ کا حل اسی صوبہ سندھ میں ہے۔ سندھ کے نسل پرستوں سے ڈائلاف آسان نہیں مگر پھر بھی صوفی صفت سندھیوں سے رابطہ کرکے مُہاجر سندھی مشترکہ مفادات پہ مشتمل کونسل کا قیام مشترکہ مطالبات ہی دونوں گروہوں کے مسائل و اختلافات کا حل ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد تقسیم سندھ کے مُہاجر متحمل نہیں ہوسکتے۔ جن طاقتور عالمی قوتوں نے تقسیم ہند کیا آج پاکستان انکا خدمتگار ہے مُہاجر کو کیا ملا ؟ اںدیا کے مسلمان نے پاکستان کیلئے ۹۹ فیصد ووٹ ڈالے آج پاکستان انکے لئے کیا کررہا ہے ؟ جو طاقتور حلقے سندھ کی تقسیم کریں گے نیا صوبہ انکا تابعدار تو ہوگا انکے مفادات تو پورے ہوں گے مگر مُہاجر ایک بار ذلیل و دربدر ہونا پڑیگا۔ نئے صوبہ کا مطالبہ حقائق سے روگردانی ہے اور بہ حیثیت مُہاجر نظریات کے محافظ ندیم رضوی اس کی شدید مُخالفت کرتا ہے ۔
سندھ میں مزید صوبوں کے قیام یا کراچی کو صوبہ بنائے جانے کے حوالہ سے ہر مطالبہ کی متروکہ سندھ تحریک اسی طرح مُخالفت کرتی ہے جیسے مُہاجر کو پناہ دینے کے جھوٹے دعووں کی۔ اگر پشتون و بلوچ، پنجابی و سرائیکی، پشتون و ہزاروال ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں تو مُہاجر قوم و سندھی بولنے والے افراد کیوں نہیں۔
تمام اختلافات کے باوجود ہم سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کی مُخالفت کرتے ہوئے سندھی بولنے والوں کے ساتھ ہیں۔
ندیم رضوی
مورخہ ۱۰اگست ۲۰۲۵
متروکہ سندھ تحریک
مُہاجر قومی تحریک