Fallacy of Sindh

موہنجو داڑو کا “پجاری بادشاہ”اسے سندھی اور  اس کی چادر کو “اجرک” کہنا ایک مغالطہ اور سفید جھوٹ

 

پجاری بادشاہکون ہے؟

نام نہاد”پجاری بادشاہ“ دراصل ایک چھوٹا، نہایت باریک تراشا ہوا ”اسٹیاٹائٹ (صابن کا پتھر)“ کا مجسمہ ہے جو **موہنجو داڑو** کی کھدائی کے دوران دریافت ہوا۔ موہنجو داڑو **وادیٔ سندھ کی تہذیب (Indus Valley Civilization)** کے بڑے شہروں میں سے ایک تھا، اور یہ مجسمہ تقریباً **2000 تا 1900 قبل مسیح** کا ہے۔ یہ وادیٔ سندھ کی تہذیب کی سب سے نمایاں علامتوں میں شمار ہوتا ہے، جو اس تہذیب کی فنی مہارت اور پراسرار  سماجی ڈھانچے کی نمائندگی کرتا ہے۔ہم یہاں یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ وادی سندھ اور صوبہ سندھ دو الگ الگ معماملہ ہیں۔ گو کہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں بسنے والے وہ نسل پرست و نازی صفت نام نہاد قوم پرست جو قیام پاکستان سے صرف چار سال قبل خود کو مسلم قوم پرست کہتے نہیں تھکتے تھے متروکہ سندھ پہ قبضہ کی غرض سے سنہ ۱۹۴۸ سے ایک نئی قوم جنم دینے کی کاوشوں میں نا صرف لگےت ہوئے ہیں بلکہ بڑی حد تک گزشتہ ۷۷ سال میں کامیابی کی کئی سیٹھیاں چڑھ چُکے ہیں۔ آج انکی جوان نسل مُہاجر قوم کی نفرت میں خود کو سندھی قوم کہلواتی ہے۔ اس قوم پرستی کیلئے اس نفرت پزیر گروہ نے بڑی مکاری و چالاکی سے اپنا سلسلہ قدم و عظیم وادی سندھ سے جوڑنا چاہا ہے۔ وہ وادی جو

Real Sindh
Real Sindh

سپتا سندھو پہ مشتمل مشرقی ہندودستان و سارے پاکستان پہ مُحیط ہے۔ ایک جانب افغانیہ تو دوسری جانب یوپی بہار انڈیا تک پھیلی ہے اسے انگریزوں و آمریے کے بنائے صوبہ سندھ تک محدود

Preist King of MohinjoDaro
Preist King of MohinjoDaro

کرنے کی کوشش پہ سارا زور ہے ۔ اس زور آزمائی میں موہن جو ڈرو کو بھرپور استعمال کیا جاتا ہے کہ وہ اس صوبہ میں ہی ہے۔  

اب چلتے ہیں ایک بار پھر مجسمہ کی طرف۔یہ  مجسمہ ایک تراشی ہوئی، سنواری ہوئی داڑھی، سر پر باندھی ہوئی پٹی—جو شاید ٹوپی یا بالوں کی آرائش ہے—اور ایک باریک نقش و نگار والی چادر دکھاتا ہے جس پر سوراخ کر کے تکونی، گول اور دہرا گول نقش بنایا گیا ہے اور انہیں سرخ رنگ سے بھرا گیا تھا۔

“پجاری بادشاہ” کی اصطلاح سب سے پہلے ابتدائی ماہرینِ آثار قدیمہ نے دی۔ ارنَسٹ جے۔ ایچ۔ میک نے ابتدا میں اسے ایک “پجاری” سمجھا، جبکہ **سر جان مارشل** نے اسے شاید “بادشاہ-پجاری” کہا۔ بعد میں یہ اصطلاح **مورٹمر وھیلر** نے عام کی۔ تاہم جدید محققین اس نام کو محض قیاس قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ “بنیاد سے خالی” ہے۔

پجاری بادشاہسندھیکہنا ایک تاریخی مغالطہ ہے

وادیٔ سندھ کی تہذیب (Indus Valley Civilization) تقریباً **2600 تا 1900 قبل مسیح** کے درمیان ایک وسیع خطے میں پروان چڑھی، جو موجودہ پاکستان، شمال مغربی ہندوستان اور اس سے آگے تک پھیلا ہوا تھا۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب “سندھی” کو بطور ایک جدید لسانی اور نسلی گروہ کا تصور ابھی وجود میں بھی نہیں آیا تھا۔

جدید نسلی و لسانی اصطلاحات کا اطلاق درست نہیں

“سندھی” کی اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو سندھی زبان بولتے ہیں، اور یہ شناخت صدیوں کے ارتقاء کے بعد بنی، خاص طور پر جدید قوم-ریاستوں کی تشکیل کے بعد۔ اس اصطلاح کو وادیٔ سندھ کی تہذیب کے کسی فرد پر منطبق کرنا گویا ایک جدید شناخت کو ماقبل تاریخ دور پر تھوپ دینا ہے، جو تاریخی طور پر بالکل غلط ہے۔ لہٰذا “پجاری بادشاہ” اور “اجرک” کے موضوع پر مزید تفصیل میں جانے سے پہلے ضروری ہے کہ مستند ذرائع کی مدد سے یہ سمجھ لیا جائے کہ موجودہ سندھی زبان ہرگز وہ نہیں ہے جسے متعصب یا نام نہاد قوم پرست “سندھی” ماہرین غلط طور پر قدیم تہذیب کی براہِ راست وارث قرار دیتے ہیں۔

۱۔ سندھی زبان کی ابتدا

آج کی سندھی زبان وادیٔ سندھ کی تہذیب کی زبان کا تسلسل نہیں ہے۔ یہ **ہند-یورپی خاندان** کی **ہند-آریائی شاخ** کا حصہ ہے اور موہنجو داڑو اور ہڑپہ کے زوال کے ہزاروں سال بعد وجود میں آئی۔ سندھی **شمال مغربی ہند-آریائی ذیلی گروہ** میں شامل ہے، جس میں پنجابی، لہندا، گجراتی اور راجستھانی بھی شامل ہیں۔ اس کی بنیاد **مدیانی ہند-آریائی زبانوں** (پراکرت اور اپبھرمش) پر ہے، جو خود **قدیم ہند-آریائی (یعنی سنسکرت، تقریباً 1500 تا 500 قبل مسیح)** سے نکلی تھیں۔ ماہرین لسانیات کے مطابق سندھی بحیثیت ایک الگ زبان تقریباً **آٹھویں تا دسویں صدی عیسوی** میں وجود میں آئی، جب اپبھرمش کی مقامی بولیاں سندھ میں پروان چڑھ کر ابتدائی سندھی کی شکل اختیار کر گئیں۔

Masica, Colin P. *The Indo-Aryan Languages*. Cambridge University Press, 1991 حوالہ: 

۲۔ سندھی پر اثرات

* **وادیٔ سندھ کی زبانیں:** ہڑپہ رسم الخط (2600–1900 ق م) آج تک ناقابلِ فہم ہے۔ کوئی براہِ راست ثبوت نہیں کہ اس کا تعلق سندھی سے تھا، اگرچہ سندھ جغرافیائی طور پر وہی خطہ ہے۔

* **ایرانی اثرات:** ایران سے قربت کے باعث ابتدائی سندھی میں فارسی اور عربی الفاظ داخل ہوئے، خاص طور پر **711 عیسوی میں عرب (اموی) فتحِ سندھ** کے بعد۔

* **سنسکرت و پراکرت بنیاد:** سندھی کی صرفیات (گرامر)، آوازیات (صوتی ڈھانچہ) اور بیشتر الفاظ ہند-آریائی بنیادوں سے نکلے۔

* **بعد کے اثرات:** عربی، فارسی اور حتیٰ کہ ترکی زبان کے الفاظ بھی صدیوں کے اسلامی دورِ حکومت میں سندھی میں شامل ہوئے، جس سے اس کی لغت مزید وسیع اور متنوع ہو گئی۔

Shackle, Christopher. *Sindhi*. Routledge, 1976.حوالہ : 

نام نہادپجاری بادشاہکی انفرادی شناخت کے کوئی شواہد نہیں

ماہرین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وادیٔ سندھ کی تہذیب نے ایسے کوئی کتبے یا تحریری شواہد نہیں چھوڑے جن سے افراد کی شناخت ہو سکے، بشمول “پجاری بادشاہ” کے۔ تمام القابات—پجاری، بادشاہ، سندھی—محض قیاس آرائیاں ہیں اور ان کے حق میں کوئی مستند ثبوت موجود نہیں۔
📖 (حوالہ: Religion of the Indus Valley Civilisation، [ResearchGate])

مجسمے کی اہمیت

اگرچہ اس شخصیت کی اصل شناخت مشکوک ہے، لیکن “پجاری بادشاہ” اب بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے:

  • فنی مہارت (Artistic Mastery): یہ مجسمہ وادیٔ سندھ کی تہذیب کے تصویری فن اور علامتی اظہار کے اعلیٰ معیار کی عکاسی کرتا ہے، جس میں فطری جزئیات اور تجریدی اسلوب میں ایک توازن دکھائی دیتا ہے۔
  • سماجی ڈھانچہ اور علامت (Social Hierarchy & Symbolism): اگرچہ آثارِ قدیمہ کے لحاظ سے کسی مخصوص حکمران طبقے یا پجاری نظام کی تصدیق نہیں ہوئی، لیکن اس شخصیت کے لباس اور زیبائش—خصوصاً نقوش دار چادر اور سر پر باندھی ہوئی پٹی کسی رسومی یا باوقار حیثیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تاہم مختلف محققین کی آراء مختلف ہیں، اور حالیہ تحقیق یہ بھی ظاہرکرتی ہے کہ وادیٔ سندھ کا معاشرہ ممکنہ طور پر پہلے سمجھے جانے کے مقابلے میں زیادہ مساوات پسندتھا۔
  • ثقافتی روابط (Cultural Interconnections): فنونِ لطیفہ کی تاریخ میں موازنہ کیا گیا ہے کہ اس مجسمے کے چہرے کی ساخت کچھ حد تک میسوپوٹیمیا یعنی بابل و عراق کے فنون سے مشابہت رکھتی ہے، جس سے ممکنہ ثقافتی تبادلے کا اشارہ ملتا ہے۔ تاہم یہ محض قیاس ہیں، قطعی ثبوت نہیں۔

نتیجہ: “پجاری بادشاہ” کو وادیٔ سندھ کی ایک اعلیٰ طبقاتی شخصیت سمجھا جانا چاہیے جس کی شناخت اور حیثیت نامعلوم ہے—لیکن وہ کسی طور پر بھی موجودہ معنوں میں “سندھی” نہیں تھا۔ جدید نسلی یا لسانی اصطلاحات کو قدیم تناظر پر منطبق کرنا درست نہیں، ورنہ ہم ایک ایسی تہذیب پر مصنوعی شناخت مسلط کر دیتے ہیں جس نے اپنے افراد کے بارے میں کوئی تحریری ریکارڈ نہیں چھوڑا۔ یہی اصول “اجرک” پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اب آئیے اس چادر کا جائزہ لیتے ہیں۔

پجاری بادشاہ کی چادر

موہنجو داڑو کے “پجاری بادشاہ” کو ایک کڑھائی کی ہوئی چادر پہنے دکھایا گیا ہے، جس پر تکونی اور گول نقوش ہیں۔ یہ ہرگز کوئی چھاپے ہوئے کپڑے کی مثال نہیں۔ کوئی بھی آثارِ قدیمہ کا ماخذ اسے “اجرک” قرار نہیں دیتا، اور ہندوستانی بلاک پرنٹ کپڑوں (جن میں اجرک شامل ہے) کی قدیم ترین مثالیں وادیٔ سندھ کے زوال کے ہزاروں سال بعد سامنے آتی ہیں۔

مجسمہ اصل میں کیا دکھاتا ہے؟

  • آثار قدیمہ اور عجائب گھروں کی وضاحتیں: ان کے مطابق اس شخصیت کے بائیں کندھے پر ایک چادر ہے جس پر تکونی، ایک گول اور دہرا گول نقوش کندہ ہیں۔ یہ نقوش کاڑھےگئے تھے اور ان میں سرخ رنگ بھرا گیا تھا۔ اس سے واضح ہے کہ یہ چھاپہ زدہ کپڑا نہیں تھا۔
  • https://www.harappa.com/slide/priest-king-mohenjo-daro 
  • فنونِ لطیفہ کی تشریحات: اسی طرح آرٹ ہسٹری کی کتابوں میں وضاحت ہے کہ چادر پر ابھری ہوئی تکونیاں اور گول نقوش کم گہرائی میں کاڑھے گئے ہیں، اور کہیں بھی یہ دعویٰ نہیں کہ یہ “اجرک” ہے۔

https://www.metmuseum.org/perspectives/indian-block-printed-textiles?

اجرک اور بلاک پرنٹنگ کے بارے میں

اجرک کپاس سے بنی چادر  پر چھاپے جانے والی ایک قدیم روایت ہے جو خاص طور پر **نیل اورعناب/منجیت رنگوں سے جانی جاتی ہے، اور اس کی ابتدا موجودہ **کَچھ** (گجرات) کے علاقے سے جڑی ہوئی ہے۔ آج تک دریافت ہونے والے سب سے پرانے اور قابلِ تاریخ تعین شدہ ہندوستانی بلاک پرنٹ کپڑے **مصر (فسطاط/قُصیر القُدَیم)** سے ملے ہیں جو **مملوک دور، تقریباً بارہویں  ویں تا ۱۳ ویں  ویں صدی عیسوی** کے ہیں۔ یہ وادیٔ سندھ کے مجسمے سے کم و بیش دو ہزار سال بعد کے ہیں۔

ان قدیم بلاک پرنٹ کپڑوں کے **نقش و نگار اور ڈیزائن موجودہ اجرک** (جو آج کل **اجرکھ، گجرات** یا سندھ کے صوبے میں چھاپی جاتی ہے) سے نہایت مشابہ ہیں۔-

پجاری بادشاہ کی چادر

نام نہاد “پجاری بادشاہ” کی چادر یا شال پر **تکونی** اور **گول (سنگل و ڈبل سرکل)** نقش موجود ہیں جو کڑھائی سے بنائے  گئے اور سُرخ رنگ کی ڈائی  سے بھرے گئے تھے، چھاپے نہیں گئے تھے۔** آثار قدیمہ کی رپورٹس کے مطابق یہ نقوش اصل میں **سرخ مادہ سے بھرے گئےتھے تاکہ نمایاں نظر آئیں (Kenoyer, 1998; *British Museum, Mohenjo-daro Collection*)۔

Earliest Ajrak
Earliest Ajrak

یہ بنیاداً اجرک سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ اجرک ایک **بہت بعد کی** (قرون وسطیٰ) روایت ہے جو سندھ اور کَچھ میں **بلاک پرنٹنگ کے طریقے** سے وجود میں آئی۔ اجرک عام طور پر **گہرے نیلے اور سرخی مائل عنابی** رنگوں میں تیار کی جاتی ہے اور اس میں **جیومیٹرک ڈیزائنز** مثلاً ستارے،  چیک دار جالی شامل ہوتی ہیں۔ یہ ڈیزائنز عموماً **سمیٹریکل،عکس دار یا دائرہ وار ترتیب** میں دہرائے جاتے ہیں

(Shackle, 1976; *The Textile Society of America*, 2012)۔

تاہم **تکونی شکلیں  جو اس پجاری کے مجسمہ پہ ہیں وہ بلاک پرنٹنگ کے ڈیزائنز میں کبھی استعمال نہیں ہوئیں اور اس تکنیک کے ذریعے ان کا تصور بھی مشکل ہے۔ لہٰذاپجاری بادشاہکی چادر پر جو کچھ ہم دیکھتے ہیں وہ دراصل کوئی چھاپہ زدہ کپڑا نہیں بلکہ زیادہ امکان ہے کہ یہ **قدیم کڑھائ یکا ابتدائی ثبوت** ہے، کیونکہ تکونی نقوش پتھر کی سطح پر ابھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں

(Marshall, 1931; Mackay, 1938)

جیسا کہ ہماری تحقیق ظاہر کرتی ہے، “پجاری بادشاہ” کی چادر کا ڈیزائن **اجرک سے مماثل نہیں ہے۔** دونوں میں واحد ظاہری مشابہت صرف **سرخ رنگ کے استعمال** کی ہے۔ چادر پر پائے جانے والے سرخ رنگ کے آثار ہمیں صرف اس بات کا ابتدائی ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ شاید یہ رنگ میڈر یا منجیت نامی پودے سے حاصل کیا گیا ہو۔ اس کے علاوہ اس کا اجرک سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔

 یہ صورتحال اہم سوالات کو جنم دیتی ہے: یہ سرخ رنگ کہاں سے آیا؟ کیا یہ مقامی طور پر موہنجو داڑو کے علاقے میں تیار کیا گیا تھا، یا ممکن ہے کہ یہ چادر کہیں اور بنی ہو اور بعد میں تجارت کے ذریعے شہر میں پہنچی ہو؟

تاریخی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرتی سرخ رنگ کئی پودوں سے حاصل کیا جا سکتا تھا:

  • انڈین مُل بیری (Indian mulberry – Morinda citrifolia L.)
  • انڈین منجیت یا مجیت (Indian madder – Rubia cordifolia)
  • چائے کی جڑ (Chay root – Oldenlandia umbellata L.)

یہ پودے بنیادی طور پر جنوبی ہندوستان، جنوب مشرقی ہندوستان اور ہمالیائی خطے میں پائے جاتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کی کیمیائی ساخت اس مشہور ڈائیرز منجیت سے مختلف ہے، جو مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کی پیداوار ہے۔ قدیم کپڑوں میں استعمال ہونے والے رنگوں کی کیمیائی جانچ تاریخی اور جغرافیائی ماخذ کو متعین کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان سرخ رنگ دینے والے پودوں میں سے کوئی بھی وادیٔ سندھ کے جنوبی حصے (موجودہ صوبہ سندھ، پاکستان) میں فطری طور پر نہیں اگتا تھا۔

https://www.metmuseum.org/perspectives/indian-block-printed-textiles?

ایک اور فیصلہ کن فرق یہ ہے کہ اجرک میں نیل یعنی نیلا/سیاہ رنگ بھی استعمال ہوتا ہے، جبکہ موہنجو داڑو سے ملنے والے کسی بھی آثار میں اس کا سراغ نہیں ملا۔

ان تمام شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اجرک کا پجاری بادشاہ کی چادر سے کوئی تاریخی یا ثقافتی تعلق نہیں ہے۔

مزید برآں، اجرک ایک بلاک پرنٹ کی روایت کے طور پر بہت بعد میں، یعنی آٹھویں تا دسویں صدی عیسوی میں سامنے آئی، جبکہ وادیٔ سندھ کی تہذیب اس سے دو ہزار سال پہلے (تقریباً 2600–1900 قبل مسیح) اپنے عروج پر تھی۔ یہ زمانی فرق مزید اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پجاری بادشاہ کی چادر کو کسی طور پر اجرک قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ندیم رضوی ایم ڈی

خاکِ پاء مولا علی و حُسین  فرزندِ مُہاجر قوم  داعی متروکہ سندھ و مُہاجر قومی تحریک

تمام پارٹی بازی و شخصیت پرستی کی لعنت سے پاک قومی جزبہ سے سرشاہر آخری سانس تک قلم و لسان مُہاجر قوم کے نام!

ندیم رضوی نا چندہ مانگتا ہے نا ووٹ صرف چاہتا ہے کہ ہر مُہاجر قوم سے مُخلص ہو اور قوم کو سنہ ۱۹۸۶ سے دھوکہ دینے والے بذدلوں دہشتگردوں شخصیت پرستوں سے خود کو الگ کرکے ایسا  نظریاتی طوفان برپا کرے کہ سندھ میں نسل پرست اپنا منہ دکھانے کے لائق نا رہے اور سندھ میں صوفیت و انسانیت کا علم پھر بُلند ہو اور سندھی بولنے والا و مُہاجر قوم سب ملکر ترقی کریں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp