قائد اعظم محمد علی جناح اور قائد ملّت خان لیاقت کی دوستی ایسی تھی کہ قائد اعظم جو گول میز کاانفرنس ۱۹۳۰ کے بعد سیاست ترک کرکے لندن میں قانون کی پریکٹس کررہے تھے وہ شہید لیاقت خان کے قائل کرنے پہ ناصرف ۱۹۳۲میں واپس سیاست مٰیں آئے بلکہ انتقال سے چند لمحوں قابل انکے پاس ڈاکٹر کے علاوہ صرف دو افراد تھے ایک سگی بہن فاطمہ جناح اور دوسرے خان لیاقت علی خان شہید۔عالم غشی میں کلمہ طیبہ کہنے سے پہلے فاطمہ جناح سے انکے آخری الفاظ تھے کہ کشمیر، آئین اور مُہاجر کو حق دیدو اور اس جملہ سے قبل خان لیاقت سے فرمایا کہ “ قیام پاکستان انکی بھیانک غلطی تھی”

اس جملہ کی کوئی اور وجہ نا تھی بلکہ اسکی وجہ صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے قیام پاکستان سے قبل خود کو مسلم قوم پرست کہنے والے وڈیروں کی طوطہ چشمی اور دھوکہ بازی تھی جسکی واحد وجہ سندھ میں مہاجر کی آمد تھی۔ قائد اعظم پہ دسمبر ۱۹۴۷ تک تین بار جو قاتلانہ حملے کروائے گئے اور کہ جنہیں صیغہ راز میں رکھا گیا۔ اس کتاب میں ان حملوں کا شک سکھوں اور پنجابی مُہاجر پہ ڈالنے کی کوشش ضرور کی گئی ہے مگر وہ انڈیا کا سازشی ذہن ہے جو سندھ کے وڈیروں سے اول دن سے جُڑا ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں جو حالات تھے ان میں ممکن ہے سندھ کے وڈیروں کی ہی یہ کاروائیاں ہوں۔ بلکہ جب قائد اعظم انتقال والے دن کوئٹہ سے کراچی آئے تو ایوب کھوڑو کے صوبائی وزیر صحت نے سازش کرتے ہوئے ائیر پورٹ وہ سرکاری ایمبولینس بھجوائی جس میں پیٹرول نا تھا۔ لیاقت علی خان نے فوری دوسری ایمبولینس بھجوائی۔ قائد نے ہسپتال جانے کی بجاے گورنر جرنل ہاوس جانا مناسب سمجھا کیوں کہ وہ جان گئے تھے انکا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ قائد کو ناقابل علاج ٹی بی کا مرض لاحق تھا مگر سیاسی وجوہات پہ اس کو چھپایا گیا تھا۔ قیام پاکستان سے قبل ہی سنہ ۱۹۴۶ میں ہی سندھ کے لیڈر جناب جی ایم سیّد کا قائد اعظم سے ٹکٹوں پہ شدید اختلاف ہو چکا تھا اور وہی جی ایم سیّد جو ماضی میں انڈیا کے مسلمانوں کے کہہ چکے تھے کہ آپ سندھ آکر کاروبار زندگی سنبھالیں وہ فسادات کے باعث مُہاجر کی کراچی و سندھ آمد پہ شدید سیخ پا تھا۔ وہ اکیلے ہی نا تھے بلکہ سندھ کا ہر ارکان اسمبلی مُہاجروں کی اس مُصیبت کی گھڑی میں انڈیا کے بدترین دُشمن سے بدتر بن چُکا تھا۔ جنوری سنہ ۱۹۴۸ سے مُہاجروں کو جگہ جگہ لوٹا جانا انکو متروکہ زمین سے بے دخل کیا جانا کھوڑو سرکار کی جانب سے مہاجر کو متروکہ گھروں سے اُٹھا کر جیلوں میں پھینکنا اور ٹرینیں بھر کر مہاجر کو واپس انڈٖیا دکھیلنے کی انسانیت سوز واردتوں کے باعث قائد بت پناہ پریشان رہنے لگے تھے اور انہیں یہ احساس ہوجانا کہ سندھیوں سے بہتر تو انڈیا کے ہندو تھے۔ کشمیر و آئین سازی میں دیر بھی انہیں بے چین کر رہی تھی۔ اخری دن کی روداد اور سندھ میں ہونے والی مہاجر کے ساتھ دہشتگردی کو دیکھتے ہوئے یہ باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ قائد پہ قاتلانہ حملہ کرنے والے اور انکی موت کے ذمہ دار سندھ کے شدید ناراض وہی سیاستدان ہوں جو ماضی میں اللہ بخش سومرو کو بھی قتل کرچکے تھے۔
