Dharti Ma

دھرتی ماں  اور اسلامی تقاضہ 

دھرتی ماں  اور اسلامی تقاضہ 

انسان کی بقا زمین کے بغیر ممکن نہیں۔ زمین اناج اگاتی ہے، پانی ذخیرہ کرتی ہے، معدنیات دیتی ہے اور رہائش فراہم کرتی ہے۔ اسی لیے دنیا کی بہت سی تہذیبوں میں قبل از اسلام  زمین کو “ماں” کے طور پر پیش کیا گیا۔ مگر قرآنِ مجید نے زمین کو ایک اللہ کی تخلیق، تابع اور مسخر کردہ مخلوق کے طور پر بیان کیا ہے، نہ کہ ماں یا دیوی کے طور پر۔ یہ فرق اسلامی توحید اور مشرکانہ عقائد میں ایک بنیادی لکیر ہے۔ آج پاکستان کی تباہی کی اصل وجہ زمین ہے۔ قیام پاکستان سے قبل تمام مسلمانان  ہند نے ایک مسلم قوم کے تصور کے ساتھ ہنود کا مقابلہ کیا اور اپنا مشترکہ وطن حاصل کیا۔ افسوس کے قیام پاکستان کے نتیجہ میں صوبہ سندھ میں اردو بولنے والا مُہاجر کیا آیا سندھ کے مسلمان کی آنکھوں میں نفرت کا طوفان اُمڈ آیا۔ وہ سندھی بولنے والے لیڈر جو قیامِ پاکستان سے قبل  سندھ اسمبلی میں بارہا خود کو مسلم قوم پرست کہتے نہیں تھکتے تھے قیام پاکستان کے فوری بعد سندھی قوم پرست بن گئے۔ ندیم رضوی جب انہیں یاد دلاتا ہے کہ کیا تم وہی سندھ کے مسلمان نہیں جو قاتلین حسین کے مثل ہو ؟ یاد رہے کہ امام حُسین نے وقت شہادت یزیدیوں کو یاد دلایا تھا کہ تم جس کا کلمہ پڑھتے ہو میں اسکا نواسہ ہوں کیا تم نے رسول سے وفا و مودّت پہ ایمان کا اظہار نا کیا تھا۔ بالکل اسی طرح سندھ کے نام نہاد قوم پرست بتائیں کہ کل کے مسلم قوم پرست مہاجر کی آمد سے سندھی قوم پرست کیسے بنے۔ وہی جنہیں ہندو سندھ اسمبلی میں منت سمجاعت کرتا تھا کہ ہماری دھرتی ماں کو مت کاٹو اکھنڈ بھارت ماتا کو تقسیم نا کرو بھارت ہماری ماں ہے دھرتی ماں ہے تو تم نے انکی تب ایک نا سُنی تھیْ کیوں ؟ کیا صرد ااس لئے کہ تم اس ہندو کی زمین پہ قبضہ کرنا چاہتے تھے ؟ اور قیام پاکستان پہ ناگہانی قتل و غاتگری کے نتیجہ میں تمھارے ہندو کی زمین پہ قبضہ کا پلان فیل ہوگیا! ابو ہندو انڈیا چلا گیا اور مہاجر پاکستان کے صوبہ کو دارالخلافہ میں تبادلہ آبادی و زمین کے تحت آگیا۔ متروکہ سندھ مُہاجر کا آئینی و قانونی و شرعی حو قرار پایا۔ متروکہ سندھ پہ اپنے ناجائز قبضے کیلئے تم نے اسی ہندو جس سے تم جھگڑتے تھے اسکا مشرکانہ فلسفہ اپنا لیا ! کیوں اگر ایسا نہیں اور تم آج بھی مسلمان ہوتو آؤ قران سے دھرتی کو سمجھیں 

 زمین کی تخلیق — اللہ کی قدرت کا مظہر

قرآن کی متعدد آیات میں زمین اور آسمانوں کو اللہ کی تخلیق قرار دیا گیا ہے:

سورۃ ابراہیم 14:32

“اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ”

(اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔)

سورۃ الانبیاء 21:30

“وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ”

(ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا۔)

یہ واضح کرتا ہے کہ زمین خالق نہیں بلکہ مخلوق ہے۔

قرآن زمین کو سہولت اور سکونت کا ذریعہ بتاتا ہے:

سورۃ نوح 71:19

“وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِسَاطًا”

(اللہ نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا۔) بچھونا کیا ماں ہوتا ہے ؟ 

سورۃ النبأ 78:6

“أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا”

(کیا ہم نے زمین کو گہوارہ نہیں بنایا؟) گہوارہ کیا ماں ہوتا ہے ؟ 

 زمین میں موجود وسائل اور رزق۔ زمین کی نعمتیں اللہ کی طرف منسوب کی گئی ہیں:

سورۃ الحجر 15:19

“وَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْزُونٍ”

(ہم نے زمین میں ہر چیز ناپ تول کے ساتھ اگائی۔) 

سورۃ طہ 20:53

“الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا وَسَلَكَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًا”

(جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں راستے بنائے۔)

 انسان کا زمین پر مقام — خلیفہ اور امانت دار

زمین انسان کے سپرد کی گئی، ماں نہیں بنائی گئی:

سورۃ البقرہ 2:30

“إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً”

(میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔) کوئی شرم ہے کوئی حیا ہے ؟ بجائے زمین جو کل ارض ہے نا کہ ایک صوبہ کسی ایک ملک کا پروردگار تمھیں ساری زمین کا خلیفہ بنارہا ہے اور تم مُہاجر قوم سے نفرت میں متروکہ سندھ پہ قبضہ کیلئے زمین کو ماں کہتے نہیں شرماتے۔ ندیم رضوی تمھیں ایک سے ایک بہترین دلیل دے کر بات کرتا ہے اورتم گالیاں  بکتے ہو۔ 

سورۃ الاعراف 7:10

“وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ”

(ہم نے تمہیں زمین میں قوت و اختیار دیا۔) ماں نہیں بنایا بلکہ تصرف کے لئیے اختیار دیا۔ اس میں کھتی ہرو تیل نکالو ترقی کرو مُہاجر قوم کو تنگ نا کرو انسان کے بچّے بنو متروکہ سندھ پہ قبضہ مت کرو 

 زمین کی تابع داری زمین کو اللہ نے انسان کے لیے مسخر کر دیا:

سورۃ الجاثیہ 45:13

“وَسَخَّرَ لَكُمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا”

سورۃ الملک 67:15

“هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا”

یہ بتاتا ہے کہ زمین خدمت گزار ہے، ماں نہیں۔

 زمین کا انجام اور فنا

زمین ہمیشہ نہیں رہے گی:

سورۃ ابراہیم 14:48

“يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ”

سورۃ الزلزال 99:1-2

“إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا”

اگر زمین ماں ہوتی تو اس کی فنا یا تبدیلی کا تصور مذہبی طور پر ممکن نہ ہوتا۔

 “دھرتی ماں” — ایک مشرکانہ وراثت

“بھومی دیوی” ہندومت میں زمین کی دیوی ہے، جسے ماں اور دیوی مان کر پوجا جاتا ہے۔

“ماتر بھومی” (Mother Earth) کا تصور انہی مذہبی جڑوں سے آیا۔

یونانی دیوی “گائیا” زمین کی ماں مانی جاتی تھی 

 قرآنی تنقید

 قرآن نے واضح حکم دیا کہ غیر اللہ کو نہ پکارا جائے:

13. سورۃ القصص 28:88

“وَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ”

زمین کو ماں یا دیوی کہنا شرک کی طرف جھکاؤ ہے، کیونکہ یہ تخلیق کو خالق جیسا مقام دیتا ہے۔

 اسلامی متبادل تصور

اسلام میں زمین:

اللہ کی امانت ہے (سورۃ البقرہ 2:30)

امتحان کا میدان ہے (سورۃ الملک 67:2)

عارضی قیام گاہ ہے (سورۃ غافر 40:39)

اسے احترام اور حفاظت ملنی چاہیے، لیکن اس کی الوہیت یا مادریت کا تصور نہیں۔

قرآن کا زمین کے بارے میں تصور خالص توحید پر مبنی ہے:

زمین اللہ کی مخلوق اور انسان کے لیے مسخر کردہ ہے۔

زمین فنا ہو جائے گی اور نئی زمین سے بدل دی جائے گی۔

“دھرتی ماں” کہنا یا اس عقیدے کو اپنانا مشرکانہ جڑوں سے آیا ہے، جس کی قرآن میں کوئی تائید نہیں۔

میں تممام سندھی بولنے والوں سے درخوست کرتا ہوں کہ خدا را دھرتی کو ماں کہنا بند کریں، مُہاجر کو قوم تسلیم کریں اور متروکہ سندھ پہ انکا حق جانتے ہوئے تمام قبضے ختم کئے جائیں 

ندیم رضوی 

متروکہ سندھ تحریک

مورضہ ۸ اگست ۲۰۲۵ 

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp